.

"جوہری تنازع پر مذاکرات سے زیادہ امیدیں نہ لگائی جائیں"

ایرانی فوج کے ڈپٹی چیف بریگیڈئر جنرل مسعود جزائری کا بیان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کی مسلح افواج کے ڈپٹی چیف آف آرمی سٹاف بریگیڈئر جنرل مسعود جزائری نے امریکا اور مغرب کے ساتھ متنازع جوہری پروگرام کے حوالے سے مغربی ملکوں کے ساتھ جاری مذاکرات پر اپنے رد عمل میں کہا ہے کہ ان کی کامیابی اور مثبت نتائج کی زیادہ توقع نہ رکھی جائے۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی’’فارس‘‘ کی رپورٹ کے مطابق جنرل مسعود جزائری کا کہنا ہے کہ جوہری معاملے پر جاری مذاکرات کی کامیابی اور ناکامی دونوں کے امکانات موجود ہیں بلکہ مذاکرات کی کامیابی کے امکانات کئی قسم کے شکوک وشبہات کے پردوں میں لپٹے ہوئے ہیں۔

انہوں نے الزام عاید کیا کہ مغرب اور امریکا ایران کے جوہری تنازع کو منصفانہ اور عالمی قوانین کے مطابق حل کرنے سے پہلو تہی کا مظاہرہ کر رہا ہے اور ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ہمارے وسائل اور ترقی کی راہ میں روڑے اٹکانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

اپوزیشن پر دشمن ممالک سے تعلقات کا الزام

ایران کے ڈپٹی آرمی چیف بریگیڈئر جنرل مسعود جزائری اندرون اور بیرون ملک اپوزیشن حلقوں کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ ایران میں شہری آزادیوں کا مطالبہ کرتے ہیں، ان کے در پردہ ایران، اسرائیل اور برطانیہ جیسے ایران دشمن ممالک کےساتھ تعلقات ہیں۔ کچھ عرصہ قبل تک ایرانی اپوزیشن اور مغرب کے درمیان تعلقات کمزور ہوئے تھے لیکن انہیں دوبارہ مستحکم کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ مغرب اپوزیشن کے ذریعے ایران کے اسلامی نظام حکومت کو ختم کرنا چاہتا ہے۔

خیال رہے کہ جنرل جزائری اس سے قبل بھی ایرانی اپوزیشن کے بارے میں سخت ترین انداز تکلم اختیار کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے اپنے ایک حالیہ بیان میں کہا تھا کہ سنہ 2009ء کے صدارتی انتخابات کےنتائج تسلیم نہ کرنے اور ملک میں احتجاج کرنے والوں کو توبہ کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاسداران انقلاب ایران میں اسلامی نظام حکومت کی طرف بڑھنے والے ہر ہاتھ کو کاٹ دیں گے۔
جنرل جزائری ایرانی حلقوں میں اس وقت متنازعہ شخصیت بن کر ابھرے تھے جب انہوں نے فرانس سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اپنے ہاں پناہ گزین سابق جلا وطن صدر محمد ابو الحسن بنی صدر کو تہران کے حوالے کرے۔

یاد رہے کہ صدر بنی صدر 10 جولائی 1981ء کو اس وقت ملک سے فرار ہو گئے تھے جب ان کے اور بانی انقلاب امام خمینی کے درمیان عراق۔ایران جنگ کے معاملے پر اختلافات پیدا ہوئے تھے۔ امام خمینی نے ان پر عراق کے خلاف جنگ میں سست روی کا مظاہرہ کرنے کا الزام عاید کیا تھا۔