.

داعش مخالف جنگ میں تین سال لگ سکتے ہیں:امریکی جنرل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق اور شام میں سخت گیر جنگجو گروپ دولت اسلامی (داعش ) کے خلاف جنگ میں امریکی فورسز کی کمان کرنے والے لیفٹیننٹ جنرل جیمز ٹیری نے کہا ہے کہ اس جنگ میں ٹرننگ پوائنٹ کے حصول میں کم سے کم تین سال لگ سکتے ہیں۔

جنرل ٹیری پینٹاگان واشنگٹن میں داعش مخالف جنگ میں برسرزمین ہونے والی پیش رفت سے متعلق صحافیوں سے گفتگو کررہے تھے۔انھوں نے کہا کہ امریکا نے چار ماہ قبل پہلا فضائی حملہ کیا تھا اور اندازہ یہ ہے کہ اب اس جنگ میں کم سے کم تین سال اور لگ جائیں گے۔

انھوں نے بتایا کہ کرد سکیورٹی فورسز نے امریکا کے جنگی طیاروں کے اسی ہفتے داعش کے خلاف حملوں کے بعد شام کی سرحد کے نزدیک عراق کے ایک بڑے علاقے پر دوبارہ قبضہ کرلیا ہے۔داعش کے ٹھکانوں پر پچاس سے زیادہ فضائی حملے کیے گئے ہیں اور کردوں نے سنجار کے نزدیک قریباً ایک سو مربع کلومیٹر علاقے پر دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔

قبل ازیں کرد سکیورٹی فورسز البیش المرکہ نے اطلاع دی تھی کہ انھوں نے سنجار کے آس پاس متعدد دیہات پر قبضہ کر لیا ہے اور وہاں داعش کے جنگجوؤں کو پسپا کردیا ہے۔واضح رہے کہ سنجار پر اگست میں داعش کے حملے اور وہاں اقلیتی یزیدی برادری کے قتل عام کے بعد ہی صدر براک اوباما نے عراق میں امریکی فورسز کو فضائی حملوں کی اجازت دی تھی۔

جنرل جیمز ٹیری نے صحافیوں کو بتایا کہ امریکا اور اس کے اتحادی ممالک کے جنگی طیاروں نے 8 اگست کے بعد سے داعش کے ٹھکانوں پر 1361 فضائی حملے کیے ہیں۔شام پر امریکا اور اس کے اتحادیوں نے 23 ستمبر کو فضائی بمباری کا آغاز کیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ''داعش کے جنگجوؤں کی پیش قدمی کو روک دیا گیا ہے اور فضائی حملوں کے نتیجے میں اب انھیں نقل وحرکت اور آپس میں ابلاغ میں دشواری کا سامنا ہے۔میرا جائزہ یہ ہے کہ داعش کی پیش قدمی رک چکی ہے اور اس وقت وہ اپنے زیر نگیں علاقوں پر ہی اپنا قبضہ برقرار رکھنے کی کوشش کررہے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ عراقی سکیورٹی فورسز نے مغربی شہر رمادی کے بعض مغربی حصوں کو کلئیر کرا لیا ہے لیکن ابھی اس شہر کے مشرقی اور شمال مشرقی حصوں میں لڑائی جاری ہے۔شمالی قصبے بیجی میں بھی عراقی سکیورٹی فورسز اور جنگجوؤں کے درمیان لڑائی جاری ہے۔

امریکی جنرل نے کہا کہ فی الوقت فضائی حملوں کی رفتار مناسب ہے جبکہ عراقی وزیراعظم حیدر العبادی نے مزید فضائی حملوں اور بھاری ہتھیار مہیا کرنے کی اپیل کی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم نے داعش کے خلاف جنگ میں ایک راز تو یہ پالیا ہے کہ عراقی سکیورٹی فورسز کی صلاحیت میں اضافہ کیا جائے اور جارحانہ حکمت عملی اپنانے کے لیے ان کی ذہنی ساخت تبدیل کی جائے۔

ان سے جب سوال کیا گیا کہ کیا امریکا کا عراق کے مغربی صوبے الانبار میں داعش کے خلاف لڑائی کے لیے سنی قبائل کو مسلح کرنے کا کوئی منصوبہ ہے توان کا کہنا تھا کہ اب صورت حال روز بروز بہتر ہوتی جارہی ہے۔موجودہ وزیراعظم درست سمت میں قدم اٹھا رہے ہیں اور ہم ان کی حمایت جاری رکھیں گے۔

واضح رہے کہ اس نیوز بریفنگ کے دوران امریکی جنرل جیمز ٹیری نے جنگجوؤں کے لیے''داعش'' کا لفظ استعمال کیا ہے حالانکہ اس سے پہلے امریکی حکام دولت اسلامی عراق وشام کا انگریزی مخفف آئی ایس آئی ایس یا آئی ایس آئی ایل استعمال کرتے رہے ہیں۔ان سے جب اس تبدیلی کے حوالے سے پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ خطے میں امریکی اتحادیوں نے ایسا کرنے کے لیے کہا ہے کیونکہ ان کا کہنا ہے کہ اگر آپ آئی ایس آئی ایل کو استعمال کرتے ہیں تو اس طرح آپ ان کی خود ساختہ خلافت کو جائز قرار دے دیتے ہیں۔اس لیے میں نے محسوس کیا کہ ہمیں ایسا نہیں کرنا چاہیے۔