.

مصر: مقدمات اور صحافیوں کی حراست پر اوباما کو تشویش

اوباما نے 188 افراد کو سزائے موت پر ردعمل سے آگاہ کیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر براک اوباما نے مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی کے ساتھ فون پر بات کرتے ہوئے مصر شہریوں کے خلاف بڑی تعداد میں مقدمات چلائے اور میڈیا سے متعلق افراد کے علاوہ انسانی حقوق کے لیے سرگرم پرامن کارکنوں کی حراست پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

وائٹ ہاوس کی طرف سے فون کال پر ہونے والی اس بات چیت کے حوالے سے جاری کیے گئے بیان میں بتایا گیا ہے کہ صدر اوباما نے صدر السیسی کی سیاسی، معاشی اور سماجی شعبوں میں مصری عوام کو شامل کرنے کی حوصلہ افزائی کی ہے۔

واضح رہے اوباما نے رواں ماہ کے آغاز میں ایک مصری عدالت کی طرف سے 188 افراد کو سزائے موت سنائے جانے پر تشویش ظاہر کی ہے۔ ان 188 افراد پر الزام تھا کہ انہوں نے 13 پولیس افسروں کو ہلاک کیا تھا۔ رواں سال کے دوران اب تک کسی مصری عدالت کی طرف سے یہ آخری سزا ہے جس کا اعلان کیا گیا۔

اس سے قبل برطرف شدہ صدر محمد مرسی کے حامیوں کے خلاف اگست 2013 میں کیے گئے سخت ترین کریک ڈاون کے بعد اب تک متعدد مرتبہ سینکڑوں افراد کو سزا سنائی جا چکی ہے۔

ان سزاوں کے بارے میں اقوام متحدہ نے ناخوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا حالیہ انسانی تاریخ میں ایسی مثال نہیں ملتی ہے۔
مصر میں اہل صحافت پر بھی حالیہ مہینوں کے دوران ایک طرح سے کریک ڈاون شروع کیا گیا ہے۔ الجزیرہ سے وابستہ کئی افراد کو طویل عرصے کے لیے جیل بھیجا گیا ہے۔

ماہ جون میں آسٹریلوی صحافی پیٹر گریسٹے، مصری نژاد کینیڈین صحافی محمد فضل فہمی اور ایک مصری صحافی محمد بحر کو اخوان المسلموں کی حمایت کا مجرم قرار دیا گیا تھا۔ اس حوالے سے حسنی مبارک کی 2011 میں اقتدار سے علیحدگی کے بعد سے امریکا مصر میں مسلسل ایک المناک صورت حال دیکھ رہا ہے۔

اس ناطے امریکا وقفے وقفے سے مصر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے معاملے پر متعدد بار اظہار تشویش کیا ہے۔ تاہم اپنے اس فوجی اتحاد کے ساتھ سفارتی معاملات بہرحال اہم سمجھے ہیں۔

اب صدر اوباما نے مصری ہم منصب صدر السیسی سے فون پر بات کرتے ہوئے مصر اور امریکا کے درمیان تعاون کی اہمیت کا بھی ذکر کیا۔