.

افغان فورسز کا پاکستانی علاقے کے نزدیک آپریشن

صوبہ کنڑ میں کارروائی میں 21 طالبان جنگجو مارے گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغانستان کی سکیورٹی فورسز نے پاکستان کی سرحد کے نزدیک واقع مشرقی صوبے کنڑ میں مقامی اور غیرملکی جنگجوؤں کے خلاف ایک بڑی کارروائی شروع کی ہے۔اس میں پہلے روز اکیس جنگجو ہلاک ہوگئے ہیں۔

افغان وزارت دفاع کے نائب ترجمان دولت وزیر نے سوموار کے روز صحافیوں کو بتایا یے کہ ''افغان سکیورٹی فورسز نے صوبہ کنڑ کے ضلع دنگم کے مختلف علاقوں میں جنگجوؤں کے خلاف ایک مشترکہ کارروائی شروع کی ہے۔اس کارروائی میں اب تک اکیس جنگجو مارے گئے ہیں،تینتیس زخمی ہوئے ہیں جبکہ ان کے ساتھ لڑائی میں سات سکیورٹی اہلکار زخمی ہوگئے ہیں۔

کنڑ کے گورنرشجاع الملک جلالہ کا کہنا ہے کہ قریباً ڈیڑھ ہزار طالبان جنگجوؤں نے دنگم کے بعض دور دراز دیہات میں حملہ کیا تھا اور اس کے بعد ان کے خلاف کارروائی کی جارہی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور لشکر طیبہ کے جنگجو افغان سکیورٹی فورسز کے خلاف لڑرہے ہیں۔

افغانستان کے اس صوبے میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے امیر ملاّ فضل اللہ اور ان کے جنگجوؤں نے اپنے ٹھکانے بنارکھے ہیں اور انھوں نے گذشتہ منگل کے روز شمال مغربی شہر پشاور میں آرمی پبلک اسکول پر حملے کی ذمے داری قبول کی تھی۔اسکول پردھاوا بولنے والے دہشت گردوں نے ایک سو بتیس نہتے بچوں سمیت ایک سو انچاس افراد کو بہیمانہ انداز میں قتل کردیا تھا۔

پاکستان کے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف نے اس واقعے کے ایک روز بعد بدھ کو کابل کا اچانک دورہ کیا تھا۔انھوں نے افغان صدر اشرف غنی اور نیٹو فورسز کے کمانڈر سے ملاقات کی تھی۔انھیں پشاور حملے سے متعلق اہم انٹیلی جنس معلومات فراہم کی تھیں اور ان سے ٹی ٹی پی کے جنگجوؤں کے خلاف کارروائی کے لیے مدد طلب کی تھی۔جنرل راحیل شریف نے انھیں یہ باور کرادیا تھا کہ اگر ان جنگجوؤں کا قلمع قمع نہ کیا گیا تو پاکستانی فورسز افغان علاقے میں ان کے خلاف کارروائی کرسکتی ہیں۔

آرمی چیف نے افغان صدر کو بتایا تھا کہ آرمی پبلک اسکول پر حملے کی منصوبہ بندی افغانستان ہی میں کی گئی تھی۔واضح رہے کہ پاکستان ماضی میں بھی متعدد مرتبہ افغانستان سے ملا فضل اللہ کو گرفتار کرکے حوالے کرنے کا مطالبہ کر چکا ہے لیکن افغان فورسز نے طالبان کے امیر کے خلاف پہلے نہ تو خود کوئی کارروائی کی ہے اور نہ انھیں پکڑ کر پاکستان کے حوالے کیا ہے۔

درایں اثناء افغانستان میں طالبان مزاحمت کاروں نے مقامی اور غیرملکی فورسز پر حملے تیز کردیے ہیں جبکہ نیٹو کے تحت فوج کا مشن 31 دسمبر کو ختم ہوجائے گا اور یہ فوجی اتحاد جنگ زدہ ملک میں اپنی بساط لپیٹ رہا ہے۔اس کے بعد امریکا کی قیادت میں قریباً ساڑھے بارہ ہزار فوجی افغان سکیورٹی فورسز کی تربیت کے لیے ملک ہی میں موجود رہیں گے۔