.

امریکا پر حملہ کر سکتے ہیں، شمالی کوریا

فوج امریکا کے خلاف ہر طرح سے تیار ہے، قومی دفاعی کمیشن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کوریا نے دھمکی دی ہے کہ وہ امریکا کے خلاف جنگی کارروائیاں کر سکتا ہے۔ اس دھمکی کی وجہ مبینہ طور پر امریکی صدر اوباما کی طرف سے غیر ذمہ دارانہ انداز میں پیانگ یانگ پر سائبر حملوں کے حوالے سے لگائے گئے الزامات کو بتایا گیا ہے۔

شمالی کوریا کے قومی دفاعی کمیشن کی طرف سے جاری کیے گئے ایک بیان میں خبردار کیا گیا ہے کہ امریکا پر یہ حملے وائٹ ہاوس، پینٹاگان کے ساتھ ساتھ پورے امریکا میں کیے جا سکتے ہیں۔

قومی دفاعی کمیشن کی طرف سے جاری کیے گئے طویل بیان میں پیانگ یانگ کوایک فلم کے حوالے سے حساس بتایا گیا ہے جس میں کورین لیڈرکم جانگ ان کے قتل کا منصوبہ ظاہر کیا گیا ہے۔

امریکا نے شمالی کوریا پرسائبر حملوں کا الزام عاید کیا ہے کہ جو امریکا کے لیے دہشت گردانہ حملوں کی طرح ہیں۔ صدر اوباما جنہوں نے کوریا کو جواب دینے کا وعدہ کیا ہے کہ اس امر کا جائزہ لیا جا رہا ہے کہ آیا کوریا اس میں واقعی ملوث ہے۔ تاہم انہوں نے اپنے انٹرویو میں کہا امریکا کی طرف سے یہ حملہ ایک جنگ نہیں ہو گا۔

شمالی کوریا کے قومی دفاعی کمیشن کے سربراہ کورین لیڈر کم ہیں۔ کمیشن نے خبردار کیا ہے کہ کوریا کی بارہ لاکھ سپاہیوں پر مشتمل فوج امریکا کے خلاف ہر طرح کی جنگ میں جانے کو تیار ہے۔

کوریا کی طرف سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ کوریا اچھی طرح جانتا ہے کہ اسے مجوزہ مشترکہ تحقیقات میں کس طرح ثابت کرنا ہے کہ وہ سائبر حملوں میں شامل نہیں ہے۔ واضح رہے امریکا اور شمالی کوریا پچاس کی دہائی کےآغاز میں تین برسوں تک جنگ لڑ چکے ہیں۔

اب بھی ایک طرح سے ایک دوسرے کے خلاف حالت جنگ میں ہیں۔ امریکا نے جنوبی کوریا میں اپنے ساڑھے اٹھائیس ہزار فوجی میں بٹھا رکھے ہیں تاکہ شمالی کوریا کی طرف سے کسی بھی خطرے کا مقابلہ کر سکیں۔