.

ایران: سپریم لیڈر کی انٹرنیٹ کی کڑی نگرانی کی ہدایت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں سوشل میڈیا پر پابندی کے بعد ملک کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے حکومت کو ملک بھر میں انٹرنیٹ پر ہونے والی سرگرمیوں کی کڑی نگرانی کی ہدایت کی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایرانی پبلک پراسیکیوٹر ابراہیم رئیسی نے مرشد اعلیٰ کاایک بیان نقل کیا ہے جس میں انہوں نے سختی کے ساتھ تاکید کی ہے کہ ملک میں انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر کڑی نظر رکھی جائے۔

ابراہیم رئیسی کا کہنا ہے کہ سپریم لیڈر خامنہ ای کا خیال ہے کہ انٹرنیٹ دشمنوں کو اپنے خیالات کے اظہار کا کھلے عام موقع فراہم کرتا ہے۔ نیز یہ ایک برائی ہے جو ایرانی معاشرے کی اخلاقی قدروں کو بھی بری طرح مسخ کر رہی ہے۔

خیال رہے کہ ایران کے مرشد اعلیٰ کی جانب سے انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کی سرگرمیوں کی کڑی نگرانی کی ہدایت پہلی مرتبہ نہیں دی گئی بلکہ اس سے قبل بھی وہ انٹرنیٹ پر کنٹرول کی ہدایت دے چکے ہیں۔

ایرانی پاسداران انقلاب کے عہدیدار میجر جنرل حسین یکتا نے مرشد اعلیٰ کا ایک بیان نقل کیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اگر میرے کندھوں پر رہبر انقلاب کی بھاری ذمہ داریاں نہ ہوتیں تو میں انٹرنیٹ کی ازخود نگرانی کرتا۔

ایران میں سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کے استعمال کے حوالے سے قدامت پسندوں اور لبرل حلقوں میں الگ الگ آراء پائی جاتی ہیں۔ ایران کی مقتدر اشرافیہ میں شامل مذہبی شدت پسند متعدد مرتبہ سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ پر پابندیوں کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔ مذہبی حلقوں کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ معاشرے میں برائی اور شر پھیلانے کا موجب بن رہا ہے۔

ایران میں پچھلے کئی سال سے سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائیٹ فیس بک، ٹیوٹر اور یو ٹیوب پر پابندی ہے تاہم اس کے باوجود شہری غیر قانونی طور پر متبادل پروگرامات کے ذریعے ان ویب سائیٹس تک رسائی حاصل کرتے اور انہیں استعمال کرتے رہتے ہیں۔ پابندی کے باوجود ایرانی حکومت شہریوں کی ان ویب سائیٹس تک رسائی روکنے میں بے بس دکھائی دیتی ہے۔

البتہ ایرانی صدر حسن روحانی کا انٹرنیٹ کی بندش کے حوالے سے نقطہ نظر سپریم لیڈر اور مذہبی شدت پسندوں سے مختلف ہے۔ انہوں نے متعدد مرتبہ سماجی رابطے کی ویب سائیٹس پر عاید پابندیاں ختم کرنے کا بھی اعلان کیا مگر مذہبی حلقوں کے دبائو کی وجہ سے ایسا نہیں کر سکے ہیں۔