.

لڑکیوں کی شادی، عمر پر قدغن لگانے کا ارادہ نہیں

سعودی مفتی اعظم کا وزارت انصاف کی تجویز کے باوجود اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی مفتی اعظم نے کہا ہے کہ سینئیر علما کے بورڈ کا بچیوں کی شادیوں کے لیے کم از کم عمر پندرہ سال مقرر کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ ایک ٹیلی فونک انٹرویو کے دوران شیخ عبدالعزیز آل شیخ نے اس امر کا اعادہ کیا ہے کہ پندرہ سال سے کم عمر میں بچیوں کی شادی کرنا جائز ہے۔

وزارت انصاف نے علما بورڈ کے سامنے ایک تجویز رکھی تھی کہ ملک میں لڑکیوں کی شادی کی عمر کی کم از کم ازکم حد پندرہ سال مقرر کی جائے لیکن اس پر علما بورڈ نے ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔

تجویز میں شادی کے لئے کم از کم عمر کی حد پندرہ سال مقرر کرنے کی وجوہات میں نفسیاتی، سماجی سطح پر پیدا ہونے والی پیچیدگیوں کے علاوہ بچیوں کو پیش آنیوالے جسمانی مسائل بھی شامل ہیں۔ یہ تجویز حکومت کے مختلف اداروں کی مشترکہ کمیٹی نے تیار کی تھی۔

کمیٹی اس تجویز کی تیاری کے دوران شریعہ کے علاوہ نفسیاتی اور سماجی پہلووں کا بھی جائزہ لیا تھا۔ اس تجویز میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ کم عمر شادی کی صورت میں لڑکی کے ولی کو توجہ دلائی جانا چاہیے۔ تاہم ولی کے اصرار کی صورت میں جج کو نکاح نامے کے معاہدے کو آگے بڑھانا چاہیے۔

ذراٗئع نے یہ بھی بتایا ہے کہ وزارت انصاف۔ الیکٹرانک میرج کنٹریکٹ کے حوالے سے عمل کو حتمی شکل دینے کی طرف بڑھ رہی تھی۔ میرج کنٹریکٹ کے سلسلے میں لڑکوں اور لڑکیوں دونوں کی حد عمر کا تعین کیا جانا تھا۔

اس حوالے سے شادی کے مرحلے میں داخل ہونے والے جوڑوں اور کم عمر کی شادیوں سے متعلق ڈیٹا اکٹھا کیا جا رہا ہے۔ ان ذرائع کے مطابق کم عمری میں بچیوں کی شادیوں کے واقعات بہت ہی شاذو نادر سامنے آتے ہیں۔ حالیہ برسوں میں عدالتوں میں صرف ایسے دس مقدمات آئے ہیں۔

اس کے باوجود لڑکیوں کی کم عمر میں شادیوں کا سلسلہ روکنے کے لیے وزارت انصاف سرگرم ہے، تاکہ لڑکیوں کو مختلف مسائل سے محفوظ رکھا جاسکے۔

تاہم ان تجویز میں کی گٗی سفارشات کے برعکس اگر کوئی ولی اپنی بچی کی شادی چھوٹی عمر میں کرنے پر بضد ہے تو اسے اس کے لیے عدالت کو تحریری درخواست دینا ہو گی کہ اسے استثنا دیا جائے