.

بشارالاسد نے ایران کو شام بیچ دیا: مناف طلاس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی آرمی کے ایک منحرف جنرل مناف طلاس نے صدر بشارالاسد پر ملک کو ایران کے ہاتھ بیچنے کا الزام عاید کیا ہے اور کہا ہے کہ انھوں نے اپنے خلاف عوامی احتجاجی تحریک کے آغاز کے بعد سے ہی مخالفین کو کچلنے کے لیے جبروتشدد کی کارروائیاں شروع کررکھی ہیں۔

جنرل مناف طلاس نے اخبار وال اسٹریٹ جرنل میں جمعہ کو شائع شدہ اپنی ایک تحریر میں لکھا ہے کہ ''بشارالاسد نے کبھی اور کسی وقت بھی سنجیدہ اور قابل اعتبار اصلاحات کا نفاذ نہیں کیا ہے اور اس کے بجائے اپنے اقتدار کی خاطر ملک کو تباہی سے دوچار کردیا ہے''۔

فرانس میں مقیم منحرف جنرل نے کہا ہے کہ ''صدر بشارالاسد نے شام کو ایرانیوں کے ہاں فروخت کردیا ہے''۔اس مضمون میں انھوں نے 18 جولائی 2012ء کو شامی دارالحکومت دمشق میں بم دھماکوں پر بھی روشنی ڈالی ہے۔ان بم دھماکوں میں بشارالاسد کے بہنوئی آصف شوکت سمیت چار سینیر عہدے دار ہلاک ہوگئے تھے۔

انھوں نے اس مضمون میں یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ بم دھماکے اندرونی حلقوں ہی کی کارستانی تھے تا کہ شامی حکومت کے اندر موجود حزب اختلاف کی آوازوں کا خاموش کرایا جاسکے۔ان بم دھماکوں میں مذکورہ عہدے داروں کے علاوہ اس وقت شام کے سابقہ اور موجودہ عہدے دار،حزب اختلاف کے لیڈر ،کارکنان اور باغی ہلاک ہوئے تھے۔

مناف طلاس نے اخبار کو بتایا کہ آصف شوکت ان عہدے داروں میں شامل تھے جو بشار الاسد پر یہ زوردے رہے تھے کہ وہ پُر امن احتجاج کرنے والوں اور مسلح باغیوں کے ساتھ مذاکرات کریں اور سخت گیری کی پالیسی نہ اپنائیں۔

یادرہے کہ مناف طلاس جولائی 2012ء میں دمشق میں بم دھماکوں سے دوہفتے قبل بشارالاسد کا ساتھ چھوڑ گئے تھے اور انھوں نے یہ فیصلہ دمشق میں اپنے دفتر کے باہر دھماکا خیز مواد نصب کیے جانے کے بعد کیا تھا۔ان کے محافظوں نے چھے دھماکا خیز ڈیوائسز پکڑ کر ناکارہ بنائی تھیں۔وہ منحرف ہونے کے بعد باغی فوجیوں اور جنگجوؤں پر مشتمل جیش الحر میں شامل نہیں ہوئے تھے بلکہ فرانس چلے گئے تھے اور وہیں سے گاہے گاہے بشارالاسد کی چیرہ دستیوں کے خلاف آواز اٹھاتے رہتے ہیں۔