.

افغان فورسز کا آپریشن، 12 دن میں 150 طالبان ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغانستان کے مشرقی صوبے کنڑ میں سرکاری سکیورٹی فورسز نے گذشتہ بارہ روز سے جاری کارروائی کے دوران ایک سو اکیاون طالبان مزاحمت کاروں کو ہلاک کردیا ہے۔

کنڑ کے پولیس سربراہ جنرل عبدالحبیب سیدخیلی نے منگل کوایک بیان میں کہا ہے کہ پاکستان کی سرحد کے نزدیک واقع ضلع دنگم میں افغان فورسز کی کارروائی میں کم سے کم ایک سو طالبان جنگجو زخمی ہوئے ہیں۔انھوں نے بتایا کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان( ٹی ٹی پی) اور لشکر طیبہ سے تعلق رکھنے والے جنگجو بھی مقامی طالبان کے ساتھ مل کر افغان فورسز کے خلاف لڑرہے ہیں اور اس لڑائی میں سترہ غیرملکی جنگجو بھی مارے گئے ہیں۔

پولیس سربراہ نے کہا کہ ضلع دنگم پاکستان کی سرحد کے نزدیک واقع ہونے کی وجہ سے جنگجو آر پار چلے جاتے ہیں اور وہ سرحد پار کر مقامی مزاحمت کاروں کی مدد کررہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہم مزاحمت کاروں کے خلاف آپریشن میں بڑی احتیاط کا مظاہرہ کررہے ہیں تاکہ شہریوں کی ہلاکتوں سے بچا جاسکے۔

سیدخیلی کا کہنا تھا کہ لڑائی میں مقامی قبائل مزاحمت کاروں کے خلاف لڑائی میں افغان فورسز کا ساتھ دے رہے ہیں۔اس میں پانچ مقامی قبائلی اور سکیورٹی اہلکار ہلاک اور بارہ زخمی ہوئے ہیں۔دوسری جانب طالبان مزاحمت کاروں نے اپنے جنگجوؤں کی بہت زیادہ تعداد میں ہلاکت کی تردید کی ہے لیکن انھوں نے ہلاکتوں سے متعلق اپنے طور پر کوئی اعداد وشمار جاری نہیں کیے ہیں۔

کنڑ کے پولیس سربراہ کا مزید کہنا تھا کہ طالبان جنگجوؤں کے خلاف کارروائی میں پاکستانی فورسز یا نیٹو فورسز شریک نہیں ہیں۔واضح رہے کہ کنڑ سے چارماہ قبل نیٹو کے تحت بین الاقوامی فورسز کو واپس بلا لیا گیا تھا۔اس کے بعد سے طالبان مزاحمت کاروں نے اس صوبے میں سکیورٹی فورسز پر حملے تیز کررکھے ہیں اور ملک کے دوسرے علاقوں میں بھی ان کی افغان فورسز کے ساتھ لڑائی میں شدت آئی ہے۔

درایں اثناء افغان نیشنل آرمی کے سربراہ جنرل شیر محمد کریمی اور افغانستان میں امریکا اور نیٹو فورسز کے کمانڈر جنرل جان کیمپبل نے جنرل ہیڈ کوارٹر (جی ایچ کیو) راول پنڈی میں منگل کو پاکستان آرمی کے سربراہ جنرل راحیل شریف سے ملاقات کی ہے اور ان سے افغان سرزمین پر پاکستانی طالبان جنگجوؤں کے خلاف کارروائی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا ہے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ''جنرل راحیل شریف نے افغان چیف آف جنرل اسٹاف اور ایساف کمانڈر کو سرحد کے دونوں جانب دہشت گردوں کے خلاف مربوط کارروائیوں اور انٹیلی جنس کے تبادلے سمیت تمام شعبوں میں مکمل تعاون کا یقین دلایا ہے۔

افغانستان کے سینیر حکام کا کہنا ہے کہ سرحدی علاقوں میں پاکستان کے ساتھ مل کر ابھی کوئی مشترکہ کارروائی شروع نہیں کی گئی ہے اور طالبان کے خلاف آپریشن سے متعلق تبادلہ خیال کیا جارہا ہے۔

کنڑ میں کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان کے امیر ملاّ فضل اللہ اور ان کے جنگجوؤں نے اپنے ٹھکانے بنارکھے ہیں اور انھوں نے گذشتہ منگل کے روز شمال مغربی شہر پشاور میں آرمی پبلک اسکول پر حملے کی ذمے داری قبول کی تھی۔اسکول پردھاوا بولنے والے دہشت گردوں نے ایک سو تینتیس نہتے بچوں سمیت ایک سو انچاس افراد کو بہیمانہ انداز میں شہید کردیا تھا۔

پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے اس واقعے کے ایک روز بعد گذشتہ بدھ کو کابل کا اچانک دورہ کیا تھا۔انھوں نے افغان صدر اشرف غنی اور نیٹو فورسز کے کمانڈر سے ملاقات کی تھی۔انھیں پشاور حملے سے متعلق اہم انٹیلی جنس معلومات فراہم کی تھیں اور ان سے ٹی ٹی پی کے جنگجوؤں کے خلاف کارروائی کے لیے مدد طلب کی تھی۔جنرل راحیل شریف نے انھیں یہ باور کرادیا تھا کہ اگر ان جنگجوؤں کا قلمع قمع نہ کیا گیا تو پاکستانی فورسز افغان علاقے میں ان کے خلاف کارروائی کرسکتی ہیں۔