.

الجزائر:فرانسیسی شہری کے قتل میں ملوّث جنگجو ہلاک

داعش سے وابستہ تنظیم کے سربراہ کے خلاف الجزائری فوج کی کارروائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

الجزائری فوج نے ستمبر میں فرانسیسی یرغمالی کا سرقلم کرنے کے واقعے میں ملوّث جنگجو تنظیم ''جند الخلیفہ فی ارض الجزائر'' کے سربراہ عبدالمالک قوری کو ایک کارروائی میں ہلاک کردیا ہے۔

الجزائری فوج نے منگل کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ قصبے یسر میں کارروائی میں عبدالمالک قوری سمیت تین دہشت گرد ہلاک ہوگئے ہیں اور جند الخلیفہ کے سربراہ کی لاش کی شناخت کر لی گئی ہے۔

قبل ازیں الجزائری ٹیلی ویژن نیٹ ورک نہار ٹی وی نے اطلاع دی تھی کہ قوری اور اس کے ساتھیوں کو دارالحکومت الجزائر سے قریباً اسی کلومیٹر دور واقع قصبے سیدی داؤد میں ایک کارروائی میں ہلاک کیا گیا ہے۔

الجزائرین فوج نے ہفتے کے روز ایک بیان میں کہا تھا کہ سیدی داؤد کے نواح میں واقع پہاڑی علاقے میں تین مسلح جنگجوؤں کو ہلاک کردیا گیا ہے۔ان میں سے ایک بہت ہی خطرناک مجرم ہے اور وہ 1995ء سے مطلوب ہے۔فوج نے اسی روز قوری کی تلاش شروع کی تھی۔فوجیوں نے کارروائی کے دوران بھاری مقدار میں گولہ بارود اور اسلحہ بھی برآمد کیا ہے۔

الجزائر کے وزیرانصاف طیب لوح نے 11 دسمبر کو اعلان کیا تھا کہ فرانسیسی کوہ پیما گائیڈ ہرو گورڈیل کے قتل میں ملوث جند الخلیفہ کے دو ارکان کو ہلاک کردیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ جند الخلیفہ نے ستمبر میں پچپن سالہ ہرو گورڈیل کو اغوا کر لیا تھا اور اس کے چند روز بعد ان کا سرقلم کردیا تھا۔جندالخلیفہ کے سربراہ عبدالمالک قوری نے انھیں قتل کرنے کی ذمے داری قبول کی تھی۔

ان کا گروپ پہلے اسلامی مغرب میں القاعدہ سے وابستہ تھا لیکن یہ اگست کے آخر میں اس نے الگ ہو کر ''جند الخلیفہ فی ارض الجزائر'' کے نام سے نئی تنظیم کا اعلان کیا تھا اور اس نے عراق اور شام میں برسرپیکار دولت اسلامی (داعش) کے خلیفہ ابوبکر البغدادی کی بیعت کر لی تھی اور اپنی تنظیم کو اس سخت گیر جنگجو گروپ سے وابستہ کرلیا تھا۔