.

داعش کے زیرحراست عورتوں میں خودکشیوں کا رجحان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ عراق اور شام میں برسرپیکار سخت گیر جنگجو گروپ دولت اسلامی (داعش) کے زیر حراست یزیدی عورتوں یا لڑکیوں کو زبردستی باندیاں بنایا جارہا ہے جس کے بعد ان میں خودکشی کے رجحان میں اضافہ ہوا ہے اور ایسی بہت سی لڑکیوں نے خودکشی کر لی ہے۔

داعش نے جون میں شمالی عراق کے شہروں اور قصبوں پر قبضے کے بعد سے اقلیتوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ شروع کررکھا ہے۔داعش کے جنگجوؤں نے اقلیتوں خاص طور پرعیسائیوں اور یزیدی برادری کے افراد کو نسل کشی کے انداز میں قتل کیا ہے اور ان کے مرد وخواتین کو غلام اور باندیاں بنا لیا ہے۔

ایمنسٹی کی رپورٹ کے مطابق داعش نے جن لڑکیوں کو باندیاں بنا رکھا ہے ،ان کی عمریں چودہ ،پندرہ سال یا اس سے بھی کم ہیں۔ان کے ساتھ ناروا سلوک کرنے والوں میں داعش کے علاوہ ان کے حامی بھی شامل ہیں۔ان کے زیرحراست ایک انیس سالہ لڑکی جیلان نے آبروریزی کے خوف سے خودکشی کر لی تھی۔

اس کے بھائی اور اس کے ساتھ زیرحراست ایک اور لڑکی نے اس کی خودکشی کی تصدیق کی ہے۔اس کی دوست ایک لڑکی داعش کے چنگل سے بچ نکلنے میں کامیاب ہوگئی تھی۔اس نے بتایا کہ ''ایک روز ہمیں ایسے کپڑے دیے گئے تھے جو ڈانس کرنے والے ملبوسات کی طرح تھے،ہمیں کہا گیا کہ غسل کر لیں اور یہ کپڑے پہن لیں۔جیلان نے اس دوران غسل خانے ہی میں خودکشی کر لی تھی''۔

اس نے مزید بتایا کہ ''اس نے اپنی کلائی کاٹ لی تھی اور پھر پھندے سے جھول گئی تھی۔وہ بہت خوب صورت تھی۔میرے خیال میں وہ یہ بات جان گئی تھی کہ اس کو کوئی مرد لے جائے گا اور اسی وجہ سے اس نے اپنی جان لے لی تھی''۔

ایک اور یرغمالی عورت نے بتایا کہ اس نے اپنی بہن کے ساتھ مل کر زبردستی کی شادی سے بچنے کے لیے خودکشی کی کوشش کی تھی لیکن انھیں ایسا کرنے سے روک دیا گیا تھا۔

ستائیس سالہ وفا نے ایمنسٹی کو بتایا کہ ''ہم نے اپنے دوپٹوں کو اپنی گردن کے گرد سختی سے باندھ لیا اور پھر ہم نے زور سے مخالف سمت میں ایک دوسرے کو کھینچا۔اس دوران میں بالکل بے سدھ ہوگئی اور اس واقعے کے کئی روز بعد میں بول نہیں سکی تھی''۔

ایمنسٹی نے ایک اور سولہ سالہ لڑکی راندا کی کہانی بھی نقل کی ہے۔اس لڑکی کو اس کے خاندان سمیت اغوا کر لیا گیا تھا اور پھر اس سے دُگنا عمر کے شخص نے اس کے ساتھ دو مرتبہ منہ کالا کیا تھا۔

رپورٹ میں داعش پر یزیدی عورتوں کو جنسی اور جسمانی طور پر ہراساں کرنے اور ان کی عصمت دری کرنے کا الزامات عاید کیے گئے ہیں۔ان میں سے بیشتر کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور ان سے باندیوں جیسا سلوک کیا گیا۔داعش کے قبضے سے فرار ہونے والی لڑکیاں اور عورتیں ابھی تک گھبرائی ہوئی ہیں اور صدماتی کیفیت سے دوچار ہیں۔