.

جنرل جیمز ٹیری نے 25 بار 'داعش' کا نام استعمال کیا

دولت اسلامی کے انگریزی مخفف کے بجائے 'داعش' کی مقبولیت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا اور مغرب کے تازہ شکار دولت اسلامی عراق وشام ’’داعش‘‘ کو دنیا میں مختلف ناموں کے ساتھ جانا جاتا ہے۔ عربی کے علاوہ تنظیم کے مختصر انگریزی نام بھی عالمی سیاسی اور ابلاغی حلقوں میں زبان زد عام ہیں۔ امریکا اور یورپی ممالک میں عموما داعش کو ISIL اور ISIS کی اصطلاحات کے ساتھ لکھا اور پڑھا جاتا ہے لیکن اب امریکا میں تیزی کے ساتھ تنظیم کا عربی نام ’’داعش‘‘ زیادہ مقبول ہو رہا ہے۔

بار بار ’’آئی ایس آئی ایس‘‘ کی اصطلاح استعمال کرنے والے امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے چند روز قبل کانگریس کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انگریزی نام کے بجائے ’’داعش‘‘ کا نام استعمال کیا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق جان کیری نے تو ایک آدھ بار داعش کا نام لیا لیکن تنظیم کے خلاف فضائی آپریشن کے انچارج جنرل جیمز ٹیری نے پینٹاگان میں نصف گھنٹے کی نیوز کانفرنس میں داعش کا نام 25 بار استعمال کرکے سب کو حیران کر دیا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ انہوں نے اس امر کی خود ہی وضاحت بھی کی کہ وہ ’’آئی ایس آئی ایس‘‘ کے بجائے’’داعش‘‘ کانام کیوں استعمال کرتے ہیں۔ جنرل ٹیری نے کہا کہ دہشت گرد گروپ کا عربی نام (داعش) دراصل دولت اسلامی عراق وشام کی ایک طویل عبارت کا ’’مخفف‘‘ہے اور عرب ممالک میں ’داعش‘ ہی کے نام سے مشہور ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ انگریزی کے بجائے عربی نام ہی کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔

جنرل ٹیری کا کہنا تھا کہ داعش کےخلاف سرگرم عالمی اتحادی بھی اب تنظیم کا عربی نام ہی استعمال کرنے لگے ہیں۔ تاہم بعض حلقوں کا یہ خیال بھی ہے کہ عسکریت پسند گروپ کو ’’داعش‘‘ کے نام سے لکھنا اور پڑھنا اسے آئینی حیثیت دینے کے مترادف ہے۔

نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جنرل جیمز ٹیری کا کہنا تھا کہ داعش لوگوں پر خوف اور رعب طاری کرنے کے لیے اپنے جنگجوئوں کے ذریعے طاقت کا وحشیانہ استعمال کرتی ہے۔ اس تنظیم نے بار بار یہ ثابت کیا ہے کہ وہ انسانیت سے نفرت کرنے والا گروہ ہے۔ یہ تنظیم اپنی تجارتی اور کارباری نیٹ ورک کو وسعت دینے کے لیے نہ صرف علاقائی سطح پر وحشی پن کا مظاہرہ کر رہی ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی اس کی درندگی اب بڑے پیمانے پر شہرت حاصل کر چکی ہے۔

خیال رہے کہ امریکا کے علاوہ فرانسیسی صدر فرانسو اولاند نے بھی حال ہی میں تنظیم کے نام کے انگریزی مخفف کی بجائے ’’داعش‘‘ کی اصطلاح استعمال کی تھی۔