.

شکست خوردہ صدارتی امیدوار تیونس میں تحریک چلائیں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تیونس کے حالیہ صدارتی انتخابات میں شکست خوردہ امیدوار منصف مرزوقی نے ملک میں آمریت کا راستہ روکنے کے لئے ایک نئی تحریک چلانے کا اعلان کیا ہے۔

منصف المرزوقی نے مہم کے مرکزی دفتر میں ہزاروں حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ تیونس کے تمام شہروں میں ایک عوامی تحریک شروع کریں گے تاکہ ملک کو بچایا جا سکے۔

تیونسی عوام نے حالیہ صدارتی انتخاب میں بزرگ سیاست دان اور معزول وزیر اعظم بن علی کے قریبی ساتھی باجی قائد السبسی کو اتوار کے روز ملک کا صدر منتخب کیا۔ سنہ دو ہزار گیارہ کے انقلاب کے بعد تیونس نے عبوری جمہوریت کے متعدد ادوار طے کئے اور اتوار کو ختم ہونے والا صدارتی انتخاب اس کا آخری مرحلہ تھا۔

مرزوقی نے اپنے حامیوں سے مطالبہ کیا کہ وہ پر امن اور جمہوری انداز میں مظاہروں کا اہتمام کریں۔

پیر کے روز الیکشن نتائج کے اعلان کے ساتھ ہی ملک کے جنوبی شہروں میں فسادات شروع ہو گئے۔ ان شہروں میں مرزوقی کے لئے اکثریتی ووٹ ڈالے گئے تھے۔

وزارت داخلہ کے ترجمان محمد علی عروئی نے بتایا کہ صورتحال منگل تک قابو میں آ چکی ہے۔ مظاہرے قابس، تطاوین، دوز اور تونس کے مضافاتی شہر الکرم میں دیکھنے میں آئے جہاں مظاہرین نے پولیس تھانوں اور السبسی کی پارٹی کے مراکز پر حملے کئے۔