.

بھارت:آسام میں 63 افراد کی ہلاکت کے بعد کرفیو

بوڈو باغیوں کے چرچ اور اسکول میں پناہ لینے والوں پر حملے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بھارت کی شمال مشرقی ریاست آسام کے دو اضلاع میں مقامی بوڈو باغیوں کے حملے میں تریسٹھ افراد کی ہلاکت کے بعد کرفیو نافذ کردیا گیا ہے۔

آسام سے تعلق رکھنے والے علاحدگی پسند بوڈو باغیوں نے منگل کے روز ضلع سنیت پور کے ایک گاؤں شاموک جولی میں گرجا گھر اور اسکول میں پناہ لینے والے قبائلی آباد کاروں پر حملہ کیا تھا۔یہ آباد کار آدی واسی کہلاتے ہیں۔قریباً ایک سو آدی واسیوں نے بوڈو باغیوں کے حملوں سے بچنے کے لیے ایک چرچ میں پناہ لے رکھی تھی۔ان پر حملے میں اٹھائیس افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

دوسو افراد نے ایک نزدیکی اسکول میں پناہ لے رکھی تھی اور بوڈو باغیوں کے اس اسکول پر حملے میں خواتین اور بچوں سمیت پینتیس افراد مارے گئے ہیں۔آدی واسیوں میں ہندو اور عیسائی دونوں شامل ہیں اور وہ حملے کے وقت کرسمس کی تیاری کررہے تھے۔

بوڈو باغی ریاست آسام میں اپنے قبیلے کے لیے الگ وطن کا قیام چاہتے ہیں۔وہ گذشتہ قریباً تین عشرے سے مسلح تحریک چلا رہے ہیں اور آباد کار قبائلیوں کے علاوہ سکیورٹی فورسز پر حملے کرتے رہتے ہیں۔بوڈو قبیلہ آسام کی کل تین کروڑ تیس لاکھ آبادی میں دس فی صد نفوس پر مشتمل ہے۔انھوں نے گذشتہ تین عشروں کے دوران آدی واسیوں اور مسلمانوں دونوں پر حملے کیے ہیں اور ان کی تشدد آمیز کارروائیوں کے نتیجے میں دس ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ان میں زیادہ تر عام شہری تھے۔

ریاست آسام کی حکومت نے نسلی تشدد کے واقعے کے بعد بدھ کو دو اضلاع میں کرفیو نافذ کردیا ہے اور علاقے میں پولیس اور پیرا ملٹری دستوں کی بھاری نفری تعینات کردی ہے۔بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے آسام میں تشدد کے واقعات کی مذمت کی ہے اور وزارت داخلہ نے وفاقی پیرا ملٹری فورس کے ہزاروں اہلکاروں کو صورت حال پر قابو پانے کے لیے شورش زدہ علاقے کی جانب روانہ کردیا ہے۔

آسام کے ایک اعلی پولیس افسر ایس این سنگھ نے بتایا ہے کہ بوڈو باغیوں کے حملوں کے بعد آدی واسیوں نے سنیت پور میں ایک پولیس اسٹیشن کا گھیراؤ کر لیا اور وہاں موجود افسروں پر حملے کی کوشش کی ہے۔پولیس نے فائرنگ کرکے تین آدی واسیوں کو ہلاک کردیا ہے۔انھوں نے مزید بتایا کہ بوڈو قبیلے کے لوگوں کے گھروں پر حملوں کے واقعات بھی رونما ہوئے ہیں لیکن پولیس فورس نے صورت حال پر قابو پا لیا ہے۔

واضح رہے کہ بھارت کی شمال مشرق میں واقع سات ریاستوں میں متعدد باغی گروپ حکومت کے خلاف علاحدگی کے نام پر لڑرہے ہیں اور ان کے درمیان آپس میں بھی خونریز جھڑپیں ہوتی رہتی ہیں۔وہ وفاقی حکومت سے اپنے علاقوں کو زیادہ خود مختاری دینے یا مکمل آزادی کا مطالبہ کررہے ہیں۔

باغیوں کا بھارت کی وفاقی حکومت پر یہ بھی الزام ہے کہ وہ علاقے کے معدنی وسائل سے تو بھرپور فائدہ اٹھا رہی ہے لیکن مقامی آبادی کو مکمل طور پر نظر انداز کررہی ہے اور ان کے مسائل کے حل یا علاقے کی تعمیر وترقی پر کوئی توجہ مرکوز نہیں کررہی ہے۔