.

"دنیا کی عدم توجہی سے لیبیا اگلا شام بن سکتا ہے"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کے وزیر خارجہ محمد دیری نے خبردار کیا ہے کہ اسلام پسند جنگجوؤں کے خلاف جنگ اور داخلی تقسیم کے خاتمے میں اگر طرابلس کی مدد نہ کی گئی تو سیاسی تقسیم کی آگ میں جھلستا ہوا لیبیا اگلا شام بن جائے گا۔

خبر رساں ایجنسی رائیٹرز سے بات کرتے ہوئے محمد دیری نے کہا "اگر ہم نے اس وقت صحیح قدم نہ اٹھایا تو اگلے دو سال میں لیبیا بھی ویسی ہی حالت میں آ جائے گا جیسا کہ بین الاقوامی برادری کے نامناسب رد عمل کے نتیجے میں 2014 میں شام کی ہے۔"

دیری بین الاقوامی برادری کی جانب سے تسلیم شدہ اس لیبی حکومت کی نمائندگی کرتے ہیں جو فجر لیبیا کے نام سے پہچانے جانے والے مخالف گروپ کے ساتھ ملک کے اقتدار کی مسند پر قبضہ کرنے کی پرتشدد لڑائی میں مصروف ہے۔ فجر لیبیا نے ماہ اگست کے دوران لیبی دارالحکومت طرابلس پر قبضہ کر لیا تھا۔

دیری نے اپنی حکومت کا موقف دہراتے ہوئے کہا کہ لیبیا میں تیل کی تنصیبات پر حملہ کرنے والے عناصر میں انصار الشریعہ کے ارکان بھی شامل ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں دیری کا کہنا تھا کہ مجھے اس بات کی پریشانی ہے کہ لیبیا، امریکی صدر براک اوباما کی ترجیحات میں نمایاں مقام حاصل نہیں کر پایا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اقوام متحدہ کے ایک اجلاس سے خطاب کیا تھا اور واشنگٹن میں مختلف عہدیداروں سے ملاقات بھی کی تاکہ بین الاقوامی برادری کی توجہ لیبیا میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی کی طرف مبذول کروائی جا سکے۔"

دیری کے مطابق مشرقی لیبیا میں وزیر اعظم عبداللہ الثنی کی حکومت کو سخت مالی بحران کا سامنا ہے اور اسے بین الاقوامی قرضوں کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

مسٹر الثنی کی حکومت کو طرابلس میں موجود مرکزی بینک میں موصول ہونے والی تیل کی آمدن کی رقوم تک کوئی رسائی حاصل نہیں ہے۔

درایں اثناء اقوام متحدہ کے لیبیا میں خصوصی نمائندے برناڈینو لیون نے سیکیورٹی کونسل کو بتایا ہے کہ لیبیا کے متحارب گروہوں نے اگلے سال کے شروع میں امن مذاکرات کا ایک نیا دور شروع کرنے پر آمادگی ظاہر کر دی ہے۔