.

سعودی بجٹ: 2015ء میں اخراجات کا تخمینہ 860 ارب ریال

تیل کی قیمتوں میں کمی کے باوجود تعمیراتی منصوبوں کے لیے رقوم میں اضافہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب نے مالی سال 2015ء کے لیے بجٹ کا اعلان کردیا ہے اور اس سال عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی کے باوجود اخراجات کا تخمینہ 860 ارب ریال (229.3 ارب ڈالرز) لگایا گیا ہے جبکہ آمدن کا تخمینہ 715 ارب ریال (190.7 ارب ڈالرز) لگایا گیا ہے۔

رواں مالی سال کے لیے اخراجات کا تخمینہ 855 ارب ریال (228 ارب ڈالرز) تھا۔اس طرح نئے مالی سال میں پانچ ارب ریال کے زیادہ اخراجات ہوں گے۔رواں مالی سال میں آمدن کا تخمینہ بھی 855 ارب ریال ہی تھا لیکن آیندہ مالی سال کے لیے آمدن کا تخمینہ اس سے 140 ارب ریال کم لگایا گیا ہے۔سنہ2011ء کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ سعودی عرب نے خسارے کا بجٹ پیش کیا ہے۔

سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ سلمان بن عبدالعزیز نے جمعرات کو الریاض میں کابینہ کے اجلاس میں یہ بجٹ پیش کیا ہے۔واضح رہے کہ گذشتہ چھے ماہ کے دوران عالمی مارکیٹ میں تیل کی فی بیرل قیمت میں 55 ڈالرز تک کمی واقع ہوئی ہے۔چھے ماہ قبل برینٹ خام تیل کی فی بیرل قیمت 115 ڈالرز تھی لیکن آج یہ قیمت 60 ڈالرز ہے۔

گذشتہ چار سال کے دوران عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافے کی وجہ سے سعودی عرب کے زرمبادلہ کے ذخائر بڑھ کر اکتوبر میں 905 ارب ریال تھے۔اس رقم سے سعودی عرب اپنے بجٹ خسارے کو پورا کرسکے گا۔

سعودی وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں کمی کے باوجود معاشی ترقی کے منصوبوں، سماجی فلاح وبہبود اور سکیورٹی پر فعال انداز میں اخراجات کا سلسلہ جاری رہے گا۔وزیرخزانہ ابراہیم الآصف نے اسی ماہ ایک بیان میں کہا تھا کہ آیندہ سال کا بجٹ چیلنج والی عالمی اقتصادی صورت حال کے تناظر میں پیش کیا جارہا ہے لیکن گذشتہ چند سال کے دوران زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے سے بجٹ خسارے کو پورا کرنے میں مدد ملے گی۔

شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز نے ایک شاہی فرمان کے ذریعے نیا بجٹ جاری کیا ہے اور اس میں اخراجات میں معقولیت اختیار کرنے اور بجٹ کے مؤثر اور درست انداز میں نفاذ کی ضرورت پر زوردیا ہے۔انھوں نے اپنے بیان میں بھی تیل کی قیمتوں میں کمی کا حوالہ دیا ہے۔

اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں 60 ڈالرز فی بیرل کی سطح پر برقرار رہتی ہیں تو سعودی عرب کو سنہ 2013ء میں تیل کی فروخت سے حاصل ہونے والی 276 ارب ڈالرز کی آمدن میں سے نصف سے محروم ہونا پڑے گا۔رواں سال کے دوران تیل سے حاصل ہونے والی آمدن کے اعدادوشمار ابھی جاری نہیں کیے گئے ہیں۔واضح رہے کہ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے قبل ازیں ہی یہ پیشین گوئی کردی تھی کہ سعودی عرب خسارے کا بجٹ پیش کرے گا۔