.

ایرانی ملیشیا کے 7000 جنگجو عراق میں سرگرم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کی عراق اور شام میں بڑھتی عسکری مداخلت سے متعلق ایک حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ عراق میں ایران کی القدس فورس کے کم سے کم سات ہزار جنگجو مختلف محاذوں پر 'داد شجاعت' دے رہے ہیں۔

ایرانی جنگجوئوں کی عراق میں موجودگی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی ہے کیونکہ ایرانی ملیشیا عراق میں دولت اسلامی داعش کے دہشت گردوں کے خلاف نبرد آزما نہیں بلکہ نوری المالکی کی سبکدوشی کے بعد تہران کو پہچنے والے نقصان کے ازالے اور عراق میں ولایت فقیہ کی ترویج کی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایران کی نیشنل کونسل برائے مزاحمت کے پیرس میں قائم دفتر سے جاری ایک بیان میں خبردار کیا گیا ہے کہ عراق میں ایران کی نیم سرکاری ملیشیا القدس فورس کے ہزاروں اہلکاروں کو مخصوص مقاصد کے حصول کے لیے تعینات کر رکھا ہے۔ یہ لوگ عراق میں دہشت گردوں کے خلاف جنگ میں معاونت نہیں کررہے ہیں بلکہ ایران نواز گروپوں کی مدد کرتے ہیں۔

ایران کی مزاحمتی کونسل کی خارجہ کمیٹی کے رکن حسین عابدینی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے ٹیلیفون پر گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں ایران کے اندر سے مصدقہ ذریعے سے یہ اطلاع ملی ہے کہ عراق میں موجود پاسداران انقلاب کی نجی ملیشیا القدس فورس کے جنگجو من پسند افراد کے تحفظ، ایران مخالف افراد کی جبری ملک بدری، جبری ھجرت، املاک کی لوٹ مار بالخصوص عراق میں موجود سنی مسلک کے شہریوں پر حملوں میں ملوث ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے نیم سرکاری ملیشیا کے اہلکاروں کو داعش کےخلاف جنگ کی آڑ میں عراق میں پہنچایا گیا ہے لیکن ان کے مقاصد میں داعش کی سرکوبی شامل نہیں ہے۔

حسین عابدینی نے بتایا کہ انہیں تہران سے ذرائع نے بتایا کہ عراق میں القدس فورس کے اہلکاروں کی تعداد سات ہزار سے زائد ہے۔ ان میں سے زیادہ تر بغداد، دیالی، صلاح الدین، سامرا، کربلا، نجف، الخانقین، السعدیہ اور جلولا میں سرگرم ہیں۔

باسیج ملیشیا کی عراق وشام میں کلوننگ

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے حسین عابدینی نے کہا کہ ایران شام اور عراق میں اپنے اثرو نفوذ کو بڑھانے کے لیے دونوں ملکوں میں نیم عسکری تنظیم’’پاسیج‘‘ ملیشیا کی طرز پر عسکری تنظیمیں تشکیل دینے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس سلسلے میں ایران نے دمشق اور بغداد کی ہر ممکن مدد بھی کی۔

ایک سوال کے جواب میں عابدینی نے بتایا کہ دسمبر 2013ء میں جب عراقی وزیر اعظم نوری المالکی نے سنی اکثریتی صوبہ الانبار میں آپریشن شروع کیا اور اس کے جواب میں مقامی قبائل کی مزاحمت سے المالکی کو شکست کا سامنا کرنا پڑا تو ایران کو بھی عراق میں اپنے مفادات خطرے میں پڑتے دکھائی دیے۔ اسی خطرےکے پیش نظر عراق میں القدس فورس کے اہلکاروں کی تعداد میں اضافہ کیا گیا۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی’’ایرنا‘‘ کی رپورٹ کے مطابق مسلح افواج کے ڈپٹی چیف آف اسٹاف جنرل محمد حجازی نے بھی اپنے ایک بیان میں واضح کیا ہے کہ ان کا ملک عراق کو فوجی سازو سامان اور عسکری تربیت میں ہر ممکن مدد فراہم کرتا رہے گا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کی عراق میں مدخلت ایک حقیقت ہے۔ تہران کی جانب سے بغداد سرکاری کی حمایت اور مدد صرف زبانی حد تک نہیں کی جا رہی ہے بلکہ فروری 2014ء میں شام میں سرگرم اہم فوجی عہدیدار بالخصوص بری فوج کے سربراہ جنرل علی غیدان اور فاضل برواری عراقی سیکیورٹی فورسز کی تربیت کے بغداد میں پہنچے تھے۔

رپورٹ کے مطابق عراق میں ایران کی باسیج کی طرز پر ملیشیا کے قیام کے لیے سب سے پہلے سابق عراقی وزیر اعظم نوری المالکی نے تجویز دی تھی۔ ایرانی پاسداران انقلاب کی جانب سے یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران نے شام میں صدر بشارالاسد کی حکومت بچانے کے لیے باسیج فورس کی طرز پر ملیشیا تشکیل دے رکھی ہے۔ تاہم وہ تنہا بشار الاسد کے خلاف جاری بغاوت فرو کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔ اس کی مدد کے لیے القدس فورس اور ایرانی پاسیج ملیشیا کے اہلکاروں کو بھی شام اور عراق بھجوایا گیا ہے۔