.

افغان طالبان کا نیٹو فوج کو شکست دینے کا دعویٰ

نیٹو کا لڑاکا مشن ختم، طالبان کا جہاد جاری رکھنے کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغان طالبان نے اپنے ملک میں معاہدہ شمالی اوقیانوس کی تنظیم نیٹو کے جنگی مشن کے خاتمے کو اپنی فتح قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ امریکا کی قیادت میں یہ مشن ''بربریت اور سفاکیت کی آگ ''تھا جس نے ملک کو خون میں نہلا دیا۔

طالبان مزاحمت کاروں نے افغانستان میں نیٹو فوج کے مشن کے باضابطہ خاتمے کے ایک روز بعد سوموار کو انگریزی زبان میں بیان جاری کیا ہے۔نیٹو نے کابل میں اتوار کو طالبان کے ممکنہ حملے کے پیش نظر ایک خفیہ مقام پر اختتامی تقریب منعقد کی تھی اور جنگ زدہ ملک میں مقررہ تاریخ 31 دسمبر سے تین روز قبل ہی اپنا جنگی مشن ختم کردیا ہے۔طالبان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ''وہ اس اقدام کو ان کی شکست اور مایوسی کا واضح مظہر سمجھتے ہیں''۔

انھوں نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ ''امریکا ،اس کے اتحادی جارحین اور عالمی طاغوت تنظیموں کو اس غیر روایتی اور غیر متوازن جنگ میں واضح طور پر شکست سے دوچار ہونا پڑا ہے''۔

طالبان نے 2001ء سے 2014ء کے اختتام تک نیٹو اور افغان فورسز کے خلاف مسلسل مزاحمتی جنگ لڑی ہے، غیر ملکی فوجیں افغانستان میں مکمل امن وامان قائم کیے بغیر ہی رخصت ہورہی ہیں اور اس وقت ملک بھر میں تشدد کا سلسلہ جاری ہے۔اقوام متحدہ کے فراہم کردہ اعداد وشمار کے مطابق اس سال اب تک قریباً دس ہزار عام لوگ مارے جاچکے ہیں اور ان میں سے زیادہ تر طالبان کے حملوں میں مارے گئے ہیں۔

یکم جنوری 2015ء کو نیٹو کے تحت انٹرنیشنل سکیورٹی اسسٹنس فورس (ایساف) کا لڑاکا مشن افغان فورسز کے ''تربیت اور معاونتی مشن'' میں تبدیل ہوجائے گا۔نیٹو کے قریباً ساڑھے بارہ ہزار فوجی افغانستان ہی میں موجود رہیں گے۔

طالبان نے اپنے بیان میں مزید کہا ہے کہ وہ ملک میں اسلامی نظام کے نفاذ اور باقی ماندہ غیرملکی فوج کو غیر مشروط طور پر نکال باہر کرنے کے لیے اپنا جہاد جاری رکھیں گے۔

افغان صدر اشرف غنی اقتدار سنبھالنے کے بعد سے متعدد مرتبہ طالبان کو مذاکرات کی پیش کش کرچکے ہیں لیکن طالبان کا کہنا ہے کہ ''وہ ملک میں کسی ایک بھی غیرملکی فوجی کی وردی میں موجودگی تک اپنا جہاد جاری رکھیں گے اور حکومت سے مذاکرات نہیں کریں گے''۔ لیکن ان کے اس دھمکی نما دعوے کے باوجود وہ ماضی میں افغان حکومت اور امریکا کے ساتھ بیک ڈور چینل سے مذاکرات کرتے رہے ہیں۔یہ اور بات ہے یہ مذاکرات نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوسکے تھے۔