.

ایران کا 'خودکش ڈرون' طیارے کا کامیاب تجربہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی فوج کے سربراہ میجر جنرل احمد رضا بوردستان نے کہا ہے کہ ان کے ملک نے خلیجی پابیوں میں ہونے والی فوجی مشقوں کے دوران پہلی مرتبہ "خودکش ڈرونز" استعمال کیے ہیں۔

جنرل بوردستان کے مطابق ایرانی بری فوج نے دو مراحل میں بغیر پائلٹ جاسوسی طیارے استعمال کیے۔ پہلے مرحلے میں ان جہازوں نے دشمن، جبکہ دوسرے مرحلے میں انہوں نے 'فرینڈلی فوج' کا کردار ادا کیا۔

انہوں نے ایرانی خودکش ڈرونز کو 'موبائل بم' کا نام دیتے ہوئے کہا کہ یہ طیارے دو سو پچاس کلومیٹر تک پرواز کر سکتے ہیں۔ نیز ان میں ہائی ریزولوشن کیمرے نصب ہیں۔

ایران نے گذشتہ برس نومبر میں امریکی ڈرون آر کیو 170 کی نقل نمائش کے لئے پیش کی تھی، جسے تہران کے بقول سنہ 2012ء میں ملک کے اندر ایک جاسوسی مشن کے دوران مار گرایا تھا۔

گذشتہ برس ستمبر میں بھی ایران نے میزائل سے لیس ڈرون طیارہ نمائش کے لئے پیش کیا تھا جسے بعد میں ایرانی فوج کے سامان ضرب و حرب کا حصہ بنانے کا اعلان کیا گیا۔ اس نمائش کا اہتمام ایران۔عراق جنگ کی 34 ویں سالگرہ کے موقع پر کیا گیا تھا۔

ایران نے گذشتہ چند برسوں کے دوران اپنے بیلاسکٹ میزائل پروگرام پر بھرپور کام کیا ہے اور اسی مدت میں تہران نے متعدد قسم کے بغیر پائیلٹ جاسوس طیارے بھی بنائے ہیں۔ ان میں خاص طور پر حملہ کرنے کی صلاحیت والے ڈرونز قابل ذکر ہیں جبکہ تہران دنیا کے سامنے اپنے فوجی فلسفے کو دفاعی قرار دیتا نہیں تھکتا۔

درایں اثناء امریکی ویب پورٹل 'ڈیلی بیسٹ' نے "شام میں ایرانی ڈرونز کی جنگ" کے عنوان سے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا کہ تہران کے ان جاسوسی طیاروں نے بشار الاسد کی حکومت اور فوج کو شکست سے بچانے میں اہم کردار ہے۔

یاد رہے کہ ایرانی فوج 25 دسمبر سے 31 دسمبر تک خلیجی پانیوں میں آبنائے ہرمز کے مقام پر سات روزہ جنگی مشقیں کر رہی ہے۔