.

ترکی: بدعنوانی کی تحقیقات کرنے والے پراسیکیوٹرز معطل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے اعلیٰ عدالتی ادارے نے صدر رجب طیب ایردوآن کے قریبی حلقے سے تعلق رکھنے والے عہدے داروں کے خلاف بدعنوانی کی تحقیقات کرنے والے چار پراسیکیوٹرز کو معطل کردیا ہے۔

ترکی کی ججز اور پراسیکیوٹرز کی اعلیٰ کونسل (ایچ ایس وائی کے) نے استنبول کے سابق ڈپٹی چیف پراسیکیوٹر زکریا اوز اور دوسرے تین پراسیکیوٹرز کو معطل کیا ہے۔انھوں نے گذشتہ سال دسمبر میں سرکاری عہدے داروں کے خلاف بدعنوانیوں کی تحقیقات کا آغاز کیا تھا۔ اس کے نتیجے میں بیسیوں اہلکاروں وعہدے داروں کو گرفتار کیا گیا تھا اور تین وزراء مستعفی ہوگئے تھے۔

اس سے قبل جولائی میں ججز اور پراسیکیوٹرز پرمشتمل اس اعلیٰ دارے نے ان چاروں پراسیکیوٹرز کے خلاف تحقیقات کا آغاز کیا تھا۔ان پر ٹویٹر پر سیاسی تبصرے جاری کرنے اور مشتبہ افراد کو کسی ٹھوس ثبوت کے بغیر گرفتار کرنے کا الزام تھا۔مقامی میڈیا کی اطلاع کے مطابق یہ چاروں پراسیکیوٹرز تحقیقات کی تکمیل تک معطل رہیں گے۔

درایں اثناء پولیس نے منگل کو ایک صحافیہ کو ٹویٹر پر کرپشن اسکینڈل سے متعلق تبصرے کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے اور اس کے گھر میں بھی چھاپہ مار کارروائی کی ہے۔اس خاتون نے ٹویٹر پر یہ لکھا تھا کہ ''17 دسمبر کے کیس کو ختم کرنے والے پراسیکیوٹر کا نام مت بھولیں''۔انھوں نے اپنی ٹویٹ میں پراسیکیوٹر کا نام اور تصویر بھی شامل کی ہے۔

ترکی میں حکمراں اشرافیہ کے رشوت اور بدعنوانی میں ملوث ہونے کا بڑا اسکینڈل گذشتہ سال دسمبر میں منظرعام پر آیا تھا۔ بدعنوانی کے اس بڑے اسکینڈل کی تحقیقات کو رجب طیب ایردوآن کی حکومت اور امریکا میں خود ساختہ جلاوطنی کی زندگی گزارنے والے بااثر ترک مسلم اسکالر فتح اللہ گولن کے حامیوں کے درمیان کشیدگی کا شاخسانہ قراردیا گیا تھا۔وہ اگرچہ امریکا میں رہ رہے ہیں لیکن ان کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ ان کے پیروکار ترک حکومت ،پولیس اور عدلیہ میں اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں۔

ترک حکومت نے اس اسکینڈل کے بعد گولن تحریک کے تحت چلنے والے اسکولوں اور دوسرے اداروں پر بھی بعض قدغنیں لگادی تھیں۔اس نے انٹرنیٹ پر اپنا کنٹرول سخت کردیا تھا اور ٹویٹر پر بھی دو ہفتے کے لیے پابندی عاید کردی تھی۔ترک حکومت کو میڈیا پر قدغنوں کی وجہ سے بین الاقوامی تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

بدعنوانی کے اس اسکینڈل کے بعد پراسیکیوٹرز اور عدلیہ کو حکومت کے زیر نگیں لانے کے لیے نئی قانون سازی کی گئی تھی اور اس کے تحت اعلیٰ عدالتی ادارہ قائم کیا گیا تھا۔یہ ادارہ ملک کی اعلیٰ عدالتی شخصیات کے تقرر ،تبادلے ،برطرفی اور ترقیوں کا ذمے دار ہے اور وزیرانصاف کے ماتحت کام کرتا ہے۔