.

خواتین ٹی وی اینکرز کے لیے ڈریس کوڈ کی تجویز

سعودی شوری کونسل میں زیر بحث تجویز پر بلاگرز میں بھی مباحثہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی شوری کونسل کی ایک خاتون رکن کی طرف سے ٹی وی اینکرز کے لیے ڈریس کوڈ کی تجویز پر مبنی سفارش پر شوری بحث ہو رہی ہے۔ شوری کی منظوری کے بعد اس ترمیمی قانون پر عمل درآمد کا امکان ہے۔

مجوزہ ڈریس کوڈ، جس پر مختلف بلاگرز نے مختلف تبصرے کیے ہیں، میں خواتین ٹی وی اینکرز کے لیے عبایا اور سکارف پہننا لازمی قرار دینے کی سفارش کی گئی ہے تاکہ سعودی روایات کے تحفظ کے ساتھ ساتھ بیرون ملک سعودی مملکت کا تشخص بھی مجروح نہ ہو۔

ایسی ہی ایک کوشش ماضی میں برادر ملک اسلامی جمہوریہ پاکستان میں سابق فوجی سربراہ اور مرحوم صدر جنرل ضیاالحق کے دور اقتدار میں وہاں سامنے آ چکی ہے۔ تاہم پاکسان میں یہ کوشش زیادہ دیر تک کامیاب نہ رہی اور آہستہ آہستہ واپس مغربی ذرائع ابلاغ کا ماحول پاکستانی ٹی وی چینلز کا کلچر بن گیا۔ سعودی شوری کونسل میں اس بل کو آڈیو ویڈیو قانون میں ترمیم کا نام دیا گیا ہے ۔

واضح رہے حالیہ مہینوں میں سعودی خواتین کئی متنازعہ بنا دیے جانے والے ایشوز پر باہم منقسم ہیں۔ کئی ماہ سے سعودی عرب میں خواتین کے گاڑی خود ڈرائیو کرنے کا معاملہ گرما گرم بحث کا موضوع بنا ہوا ہے ہے۔ گاڑی چلانے کی حامی سعودی خواتین کا دعوی ہے کہ متحدہ عرب امارات سے حاصل کیا گیا ان کا ڈرائیونگ لا ئسنس یکساں طور پر سعودی عرب میں بھٰی میں انہیں گاڑی چلانے کی اجازت دیتا ہے اور کوئی سعودی قانون ان کے مانع نہیں ہے۔ جبکہ سعودی مذہبی پولیس اسے سعودی روایات کے منافی سمجھتی ہے۔

سعودی خواتین کو انہی دنوں میں فٹبال میچ دیکھنے کے لیے سٹیڈیم جانے کی اجازت ہونے یا نہ ہونے کا معاملہ بھی بحث کا موضوع بنا ہوا ہے جبکہ محض چند ہفتے قبل سعودی ریستورانوں میں اکیلی خواتین کے آ کر کھانا کھانے کا معاملہ بھی ایک متنازعہ ایشو بنا رہا ہے۔ اب ٹی وی کی خواتین اینکرز کے لیے ڈریس کوڈ کا سوال شوری کی رکن نورہ العودان نے اٹھایا ہے۔

سعودی شوری کونسل کے کل ایک سو پچاس ارکان میں سے تیس خواتین ارکان ہیں، جن میں سے ایک نورہ العودان ہیں۔ جنہوں اس اہم مسئلے کی نشاندہی کی ہے۔ اس خاتون رکن نے چند ہفتے پہلے ٹی وی کی سکرین پر خواتین اینکرز کے 'متجاوز انداز کے اظہار، تراش خراش اور میک اپ کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔' خاتون رکن شوری نے الزام لگایا تھا کہ ٹی وی کی اینکرز حد سے تجاوز کرتے ہوئے میک اپ کرتی ہیں۔

اس معاملے پر سعودی بلاگرز تقسیم ہو گئے ہیں۔ کچھ ان خواتین اینکرز کو لباس اور اظہار کے حوالے سے حدود قیود کا پابند دیکھنا چاہتے ہیں جبکہ ٹی وی اینکرز اسے اپنی نجی حقوق میں مداخلت سمجھتی ہیں۔ اینکرز کے حامی بلاگرز کا موقف ہے کہ شوری کو اپنا قیمتی وقت ان ایشوز میں ضائع نہیں کرنا چاہیے۔ غدی بنت فہد نے اپنے بلاگ میں شوری کونسل میں پیش کردہ ترمیم کی ستائش کی ہے اور کہا خوشی کی بات یہ ہے کہ کوئی تو ہے جو اس جانب متوجہ ہوا ہے۔

غدی بنت فہد کے مطابق انہیں اس قانون کے زیر بحث لائے جانے سے امید پیدا ہوئی ہے۔ ایک اور بلاگر نے دریافت کیا ہے کہ ٹی وی والے خواتی کو اس قدر نمایاں پوزیشنوں پر کیوں لیتے ہیں۔ اس کے بقول ٹی وی والوں کو خواتین کو بازار کی کسی جنس کے طور پر استعمال نہیں کرا چاہیے۔ نورہ العودان اب تک شوری کونسل کو قائل کرنے میں کامیاب نظر آتی ہیں۔ کیونکہ انہوں نے شوری کی کمیٹی کو اس بل کو زیر بحث لانے پر تیار کیا ہے۔

سعودی عرب میں ان دنوں سیاسی اور تجارتی اعتبار سے خواتین کی حوصلہ افزائی کا ماحول ہے۔ پچحلے دنوں سامنے آنے والے اعدادو شمار میں سعودی کاروباری خواتین کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے جبکہ شوری کونسل کی تیس رکن خواتین کو شاہ عبداللہ نے نامزد کرنے کی روایت کا آغاز کیا ہے۔ سیاسی میدان میں خواتین کےلیے یہ اہم بات ہے۔