.

سعودی خواتین نجی ملازمت کے خلاف، محکمہ تعلیم اکثر کی چوائس

دولاکھ بتیس ہزار بے روزگار خواتین جامعات سے فارغ التحصیل ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں روزگار کی متلاشی چھ لاکھ بیاسی ہزار خواتین نے نجی شعبے میں ملازمت کے لیے ہونے والی پیش کش مسترد کر دی ہے۔ وزارت محنت نے انہیں بروزگاری معاونت پروگرام کے تحت یہ پیش کش کی تھی۔

رپورٹ کے مطابق چار لاکھ سترہ ہزار خواتین نے محکمہ تعلیم میں روزگار کو ترجیح دی ہے۔ جبکہ دو لاکھ پینسٹھ ہزار سعودی خواتین سرکاری ملازمت کی خواہاں ہیں۔

سرکاری طو پر جاری کردہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بے روزگار سعودی خواتین نے دس لاکھ کی تعداد کو عبور کر لیا ہے اور ملک میں بے روزگاروں کی مجموعی تعداد کا ستتر فی صد خواتین پر مشتمل ہے۔ اس وقت نجی شعبے میں چار لاکھ چون ہزار خواتین کو روز گار فراہم ہے۔ تیس برس قبل یہ تعداد محض پچپن ہزار تک محدود تھی۔ رپورٹ کے مطابق اس وقت بے روزگار خواتین میں سے پانچ لاکھ چونتیس ہزار کی عمر اٹھارہ سے بیس سال کے درمیان ہے۔

ان میں دو لاکھ بتیس ہزار خواتین جامعات سے فارغ التحصیل ہیں۔ جبکہ تین لاکھ تنتالیس ہزارنے سکول کے درجے تک تعلیم حاصل کر رکھی ہے۔ رپورٹ کے مطابق دو ہزار دس تک سعودی عرب کے نجی شعبے میں خواتین کارکنوں کی تعداد صرف پچپن ہزار چھ سو تھی۔ بعد ازاں سعودی شہریوں کو بروئے کار لانے کے لیے متعارف کرائے گئے حکومتی پروگرام کے نتیجے میں یہ تعداد ننانوے ہزار چار سو تک پہنچ گئی۔

حتی کہ دو ہزار بارہ میں نجی شعبے میں یہ تعداد دو لاکھ پندرہ ہزار آٹھ سو تک ہو گئی اور دوہزار تیرہ میں یہ تعداد چار لاکھ چون ہزار کو چھو گئی۔ سرکاری رپورٹ کے مطابق روزگار کےلیے قواعد مردوں اور عورتوں کے لیے یکساں ہیں۔ پچیس سے زائد شعبوں میں خواتین کو آنے کی اجازت ہے۔ ان پچیس شعبوں میں تعلیم، صحت اور صنعت وغیرہ شامل ہیں۔ واضح رہے مجموعی طور پر پندرہ لاکھ سعودی شہری نجی شعبے میں ملازمت کر رہے ہیں۔