.

لیبیا کی پارلیمان پر خودکش کاربم حملہ

مشرقی شہر طبرق میں بم دھماکے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کے مشرقی شہر طبرق میں ایک خودکش بمبار نے اپنی بارود سے بھری کار کو ملک کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ پارلیمان کے ہیڈکوارٹرز کے باہر دھماکے سے اڑا دیا ہے۔

العربیہ نیوز چینل کی رپورٹ کے مطابق بم دھماکا السلام ہوٹل کے داخلی دروازے کے نزدیک ہوا ہے،اسی ہوٹل کے ایک ہال میں پارلیمان کے اجلاس منعقد ہوتے ہیں۔ایک رکن پارلیمان ابو بکر بائرہ نے بتایا ہے کہ دھماکے میں کوئی شخص ہلاک نہیں ہوا ہے۔

طبرق میں پارلیمان پر اب تک یہ سب سے بڑا حملہ ہے۔اس سے پہلے نومبر میں اس شہر میں ایک بم دھماکا ہوا تھا لیکن اس حملے میں اسمبلی کو ہدف نہیں بنایا گیا تھا۔اس شہر میں ملک کے دوسرے حصوں کی نسبت سکیورٹی بہتر ہے لیکن اس کے باوجود حکومت مخالف وہاں بھی بم دھماکے کررہے ہیں۔

مصر کی وزارت داخلہ نے ایک بیان میں لیبیا کی منتخب پارلیمان پر دہشت گردی کے حملے کی مذمت کی ہے۔فوری طور پر کسی گروپ نے اس بم حملے کی ذمے داری قبول نہیں کی ہے۔لیبی حکام نے اس سے پہلے درنہ سے تعلق رکھنے والے انتہا پسند جنگجوؤں پر بم دھماکے کا الزام عاید کیا تھا۔

واضح رہے کہ لیبیا کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ پارلیمان اس وقت مصر کی سرحد کے نزدیک واقع شہر طبرق میں اپنے اجلاس منعقد کررہی ہے اور وزیراعظم عبداللہ الثنی کی حکومت بھی اسی شہر میں کام کررہی ہے جبکہ دارالحکومت طرابلس میں اس کے متوازی اسلام پسندوں کی حکومت قائم ہے۔