.

تیونسی صدر الباجی قائد السبسی کی حلف برداری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تیونس کے نومنتخب صدر الباجی قائد السبسی نے جمعرات کو اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے۔

88 سالہ السبسی اسی ماہ تیونس میں منعقدہ صدارتی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں 55.7 فی صد ووٹ لے کر صدر منتخب ہوئے تھے۔ان کے مدمقابل سبکدوش عبوری صدر منصف مرزوقی نے 44.3 فی صد ووٹ حاصل کیے تھے۔

پہلے مرحلے میں ستائیس صدارتی امیدواروں نے حصہ لیا تھا اور منتخب اور سبکدوش صدر پہلے اور دوسرے نمبر پر رہے تھے۔تیونس میں نئے صدر کے انتخاب کے ساتھ ہی جمہوریت کی بحالی کے مراحل بھی مکمل ہوگئے ہیں اور وہ عرب بہاریہ ممالک میں واحد ملک ہے جہاں اس وقت ایک منتخب صدر اور پارلیمان موجود ہے۔

تیونس کے ایک سیاسی تجزیہ کار نورالدین مبارکی نے العربیہ نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے:''یہ پہلا موقع ہے کہ دوسرے مرحلے کے لیے پولنگ منعقد ہوئی ہے۔پہلے مرحلے میں ووٹوں کا مارجن بہت تھوڑا تھا اور دوسرے مرحلے میں بھی دس فی صد تک رہا ہے''۔

السبسی نے 23 نومبر کو منعقدہ پہلے مرحلے کی پولنگ میں 39.46 فی صد ووٹ حاصل کیے تھے جبکہ منصف مرزوقی 33.43 فی صد لے کر دوسرے نمبر پر رہے تھے۔نورالدین مبارکی کا کہنا تھا کہ سابق مطلق العنان صدر زین العابدین بن علی کی حکومت کے خاتمے کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ تیونسیوں نے آٹھ ہفتوں میں تین مرتبہ اپنا حق رائے دہی استعمال کیا ہے۔

یورپی یونین نے صدر السبسی کی حلف برداری پر تیونسیوں کو مبارک باد دی ہے۔یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ فیڈریکا مغرینی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ تیونسی عوام نے ملک میں جمہوری انتقال اقتدار کے عمل میں ایک تاریخی باب رقم کردیا ہے۔

تیونس کے ایک اور سیاسی تجزیہ کار صادق بالعید نے کہا ہے کہ انقلاب ابھی تکمیل سے بہت دور ہے۔اب تک جو کچھ حاصل کیا گیا ہے ،وہ تو صرف ایک مرحلہ ہے۔ریاست کا پرانا ماڈل ناکام ہوگیا تھا اور انقلاب برپا ہوگیا۔اب ہمیں نیا ماڈل بنانے کی ضرورت ہے۔