.

سڈنی سے لندن تک رنگا رنگ آتش بازی سے نئے سال کا آغاز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

آسٹریلیا کے سب سے بڑے شہر سڈنی میں آتش بازی کے شاندار مظاہرے کے ساتھ نئے سال کا آغاز ہوگیا ہے اور دنیا کے باقی شہروں میں بھی چند گھٹنے کے وقفے سے رنگا رنگ تقاریب میں نئے سال کا خیرمقدم کیا جارہا ہے جبکہ 2014ء اپنی تمام تر حشر سامانیوں کے ساتھ رخصت ہوگیا ہے۔

سڈنی میں ہمیشہ کی طرح اس مرتبہ بھی سب سے پہلے 2015ء کا استقبال کیا گیا ہے اور روایتی انداز میں رنگا رنگ آتش بازی کا شاندار مظاہرہ کیا گیا ہے۔اس موقع پر پندرہ لاکھ سے زیادہ افراد ساحل سمندر ،اوپیرا ہاؤس اور دوسرے مقامات پر نئے سال کے استقبال کے لیے ہونے والی آتش بازی کا مظاہرہ دیکھنے کے لیے موجود تھے۔

سڈنی میں رات کے جونہی بارہ بجے تو آتش بازی شروع کردی گئی۔اس شہر میں دو ہفتے قبل ہی ایک ایرانی نژاد حملہ آور نے ایک معروف کیفے میں اٹھارہ افراد کو یرغمال بنا لیا تھا اور یہ ڈراما کئی گھنٹے تک جاری رہا تھا۔پولیس کی کارروائی کے دوران حملہ آور اور دو یرغمالی ہلاک ہوگئے تھے۔

دہشت گردی کے اس واقعے کے باوجود سڈنی کے باسیوں نے روایتی انداز میں نئے سال کی تقریبات منائی ہیں۔ پڑوسی ملک نیوزی لینڈ کے شہر آک لینڈ کے مشہور سکائی ٹاور پر لگے گھڑیال پر جونہی بارہ بجے تو وہاں سے آتش بازی شروع کردی گئی اور نئے سال کا خیرمقدم کیا گیا۔

مسلم اکثریتی ملک انڈونیشیا میں ائیر ایشیا کے مسافر طیارے کے سمندر میں گر کر تباہ ہونے اور مٹی کے تودے گرنے کے تباہ کن حادثے کے تناظر میں نئے سال کا استقبال کیا ہے۔لوگ ان دونوں حادثات میں مرنے والوں کی وجہ سے مغموم تھے اور دارالحکومت جکارتہ کے گورنر باسوکی جہاجاپرناما کے بہ قول وہ نئے سال کے آغاز میں ان دونوں حادثات میں مرنے والوں کے لیے دعائیہ تقاریب کا انعقاد کریں گے۔

انڈونیشیا کے دوسرے شہروں میں نئے سال کی تقریبات منسوخ کردی گئی ہیں اور دوسرے بڑے شہر سورابایا میں غم واندوہ کی فضا تھی۔ائیر ایشیا کے طیارے میں سوار زیادہ تر مسافر اسی شہر سے تعلق رکھتے تھے۔شہر کے مئیر تری رسماحیرنی نے نئے سال کے موقع پر کسی بھی قسم کی تفریحی تقریب منعقد کرنے پر پابندی عاید کردی تھی۔

ادھر فلپائن میں نئے سال کا پرجوش انداز میں خیرمقدم تو کیا گیا ہے لیکن اس مرتبہ پولیس کو روایتی انداز میں ہوائی فائرنگ کرنے کی اجازت نہیں دی گئی اور نیشنل پولیس کے قائم مقام سربراہ لیونارڈو ایسپینا نے پولیس کو خبردار کیا تھا کہ اگر انھوں نے اس موقع پر فائرنگ کی تو وہ نوکریوں سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔فلپائن میں ماضی میں نئے سال کے آغاز کے موقع پر پولیس اہلکاروں کی ہوائی فائرنگ سے بیسیوں افراد زخمی ہوتے رہے ہیں۔

اس ملک میں 21 دسمبر کو نئے سال کی تقریبات کا آغاز ہوا تھا اور اب تک ایک سو ساٹھ سے زیادہ افراد زخمی ہوچکے ہیں۔ملک کے جنوبی علاقے میں بدھ کو ایک مارکیٹ کے داخلی دروازے پر بم دھماکا ہوا ہے جس کے نتیجے میں چار افراد ہلاک اور تیس زخمی ہوگئے ہیں۔

جاپان میں نئے سال کا خیرمقدم مختلف انداز میں کیا جاتا ہے اور پہلے دن عام طور پر دکانیں بند ہوتی ہیں۔اس لیے بدھ کو ملک بھر میں شہریوں نے نئے سال کے سالانہ کھانے کے لیے خریداری کی ہے۔یہ جاپانی زبان میں ''اوسیشی ریوری'' کہلاتا ہے۔

جاپان میں مندروں میں بدھ مت کی تعلیمات کے مطابق برائی کی تعداد کے لحاظ سے ایک سو آٹھ مرتبہ گھنٹیاں بجائی گئی ہیں۔لاکھوں کی تعداد میں جاپانیوں نے مندروں کا رُخ کیا اور انھوں نے صحت اور خوش حالی کے لیے دعائیں کی ہیں۔

جنوبی افریقہ کے سب سے بڑے شہر جوہانسبرگ میں نئے سال کے موقع پر عجیب اور خطرناک رسم پر عمل کیا جاتا ہے اور شہر کے علاقے ہل برو میں لوگ اپنا قیمتی گھریلو سامان چولھے ،فرنیچر اور ریفریجریٹرز وغیرہ بالائی منازل سے نیچے پھینک دیتے ہیں۔اس کے علاوہ شہر میں لوٹ مار کے واقعات بھی عروج پر ہوتے ہیں۔

بھارت میں وزیراعظم نریندر مودی اور ان کی کابینہ اچھے نظم ونسق کے لیے وعدوں کو نبھانے کی غرض سے مسلسل کام کررہے ہیں۔نئے سال کے آغاز پر وزراء نے اپنے دورے اور تقریبات میں شرکت منسوخ کردی ہے اور وزراء سے یہ کہا گیا تھا کہ وہ خود کو رنگا رنگ تقاریب سے دور ہی رکھیں۔

پاکستان میں شمال مغربی شہر پشاور میں دوہفتے قبل دہشت گردی کے افسوس ناک واقعہ کے تناظر میں نئے سال کا سورج طلوع ہونے جارہا ہے اور بڑے شہروں میں کوئی بڑی رنگا رنگ تقریب منعقد نہیں کی گئی ہے۔پشاور میں 16 دسمبر کو آرمی پبلک اسکول پر دہشت گردوں کے حملے میں ایک سو بتیس بچوں سمیت ایک سو انچاس افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔دہشت گردی کے اس واقعہ پر پوری قوم مغموم ہے اور اس کا تین دن تک سوگ منایا گیا تھا۔

ادھر مغربی دنیا کے سب سے بڑے شہر لندن میں رات بارہ بجے ہزاروں لوگوں کی دریائے ٹیمز کے کنارے آمد متوقع ہے اور وہ آتش بازی کے خوب صورت مظاہرے کو ملاحظہ کریں گے۔برازیل کے شہر ریو ڈی جنیرو میں ساحل سمندر پر نئے سال کی تقریبات میں شرکت کے لیے دس لاکھ سے زیادہ افراد کی شرکت متوقع ہے اور گلوکار اور فن کار آدھی رات سے نئے سال کی صبح کے آغاز تک اپنے فن کا مظاہرہ کرنے کی تیاریاں کررہے تھے۔

چند گھنٹے کے وقفے سے نیویارک اور امریکا کے دوسرے شہروں میں بھی رنگا رنگ تقاریب اور آتش بازی کے مظاہروں سے نئے سال کا خیر مقدم کیا جارہا ہے۔تاہم بعض شہروں میں حکام نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ حال میں ایک غیر مسلح سیاہ فام نوجوان کی پولیس کے ہاتھوں ہلاکت کے واقعے کے ردعمل میں تشدد کے واقعات رو نما ہوسکتے ہیں۔اس لیے پولیس کو کسی ناخوشگوار صورت حال سے نمٹنے کے لیے الرٹ کردیا گیا ہے۔