.

لیبیا: 18 لاکھ بیرل تیل آگ کی نذر ہو گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لییبا میں چند روز قبل السدرہ بندرگاہ میں تیل کے پانچ بڑے ڈپوئوں میں لگنے والی آگ کے نتیجے میں اب تک کم سے کم 18 لاکھ بیرل تیل تباہ ہو چکا ہے۔

لیبیا کی آئل فائونڈیشن کے بیان کے مطابق سال رفتہ دسمبر کے اوائل سے اب تک تیل کی برآمدات پانچ لاکھ 50 ہزار بیرل سے کم ہو کر تین لاکھ 80 ہزار بیرل کی سطح پر آ گئی ہیں۔

لیبی پارلیمنٹ پر حملہ

العربیہ کے نامہ نگار کی رپورٹ کے مطابق گذشتہ روز ایک خود کش بمبار نے طبرق شہر میں پارلیمنٹ کی عمارت کے سامنے خود کش حملہ کیا جس کے نتیجے میں پارلیمنٹ کی عمارت کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔ دوسری جانب اقوام متحدہ میں لیبیا کے مندوب نے یو این کے لیبیا کے لیے مختص خصوصی ایلچی پر کڑی تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ وہ اپنی آئینی حدود سے تجاوز کر رہے ہیں۔

اقوام متحدہ میں لیبیا کے خصوصی مندوب ابراہیم الدباشی نے الزام عاید کیا کہ طرابلس میں متعین یو این ایلچی برنار ڈینیو لیون لیبیا کی آئینی حکومت اور پارلیمنٹ کے حوالے سے اپنی حدود سے تجاوز کررہے ہیں۔

لیبی پارلیمنٹ کے ترجمان فرج ھاشم نے ایک غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ خود کش بمبار نے بارود سے بھری ایک کار کو اس ہوٹل کے سامنے دھماکے سے اڑا دیا جس میں پارلیمنٹ کے اجلاس منعقد ہو رہے تھے۔ جس وقت خود کش حملہ ہوا اس وقت بھی ہوٹل میں پارلیمنٹ کا اجلاس جاری تھا۔

ترجمان نے بتایا کہ خود کش حملے کے نتیجے میں تین ارکان پارلیمنٹ زخمی ہوئے ہیں۔ ہوٹل کے جس گیٹ کے قریب دھماکہ کیا گیا وہاں سے کچھ ہی فٓاصلے پر ایک بڑے ہال میں ارکان پارلیمنٹ جمع تھے۔

عسکریت پسندوں اور فوج میں جھڑپیں جاری

درایں اثناء لیبیا کے مغربی اور مشرقی علاقوں میں سرکاری فوج اور اسلامی شدت پسندوں کے درمیان آٹھویں روز بھی مسلسل جھڑپیں جاری ہیں۔ ان جھڑپوں میں فریقین نے ایک دوسرے کے خلاف بھاری ہتھیاروں سے حملے کیے ہیں۔

بنغازی کے وسط میں سرکاری فوج اور مجلس شوریٰ، بنغاز انقلابی گروپ اور دوسرے عسکریت پسندوں کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں۔

عینی شاہدین کے مطابق بنغازی میں الحوت مارکیٹ کے آس پاس سرکاری فوج اور اسلامی عسکریت پسندوں کےمابین خونریز جھڑپیں ہوئی ہیں۔ یہ جھڑپیں اس وقت شروع ہوئیں جب سرکاری فوج کےدستے ‘‘لیبیا شیلڈ ون ‘‘ کے ہیڈ کواٹرز کی طرف بڑھنے کی کوشش کی۔

لیبیا کی حکومت نے السدرہ بندرگاہ میں آئل ڈپوئوں میں لگی آگ بجھانے کے لیے ایک امریکی کمپنی کے ساتھ معاہدہ کیا ہے۔

لیبی حکام کا کہنا ہے کہ سرت شہر میں المرفا کے مقام پر قائم تین آئل ڈپوئوں میں لگنے والی آگ پر قابو نہیں پایا جا سکا ہے۔ تیل کی بھاری مقدار کے بہہ جانے سے آگ کا دائرہ بھی تیزی کے ساتھ پھیل رہا ہے اور خدشہ ہے کہ یہ آگ دیگر آئل اسٹیشنوں کو بھی اپنی تحویل میں لے لے گی۔