.

جرمنی میں اسلام مخالف تحریکوں کی مذمت

جنگ زدہ علاقوں سے آنے والوں کا خیرمقدم کریں گے:اینجیلا مرکل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جرمن چانسلر اینجیلا مرکل نے ملک میں اسلام مخالف تحریکوں کی مخالفت کردی ہے اور شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ اسلام مخالف ہفتہ وار ریلیوں میں شرکت سے گریز کریں۔

اینجیلا مرکل نے نئے سال کے آغاز کے موقع پر اپنی تقریر میں اسلام مخالف مظاہروں کے منتظمین کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ وہ غیرملکیوں کے خلاف تعصب اور نفرت کی بنیاد پر ایسے مظاہروں کا اہتمام کررہے ہیں۔

انھوں نے اپنی تقریر میں غیرمعمولی انداز اختیار کرتے ہوئے مسلمانوں کے خلاف مظاہرے کرنے والے گروپ ''مغرب کو اسلامیانے کے مخالف محبان یورپ'' کا براہ راست الفاظ میں ذکر کیا ہے۔یہ گروپ جرمنی کے مشرقی شہر ڈریسڈن میں ہفتہ وار جلسے جلوس منعقد کررہا ہے اور ان میں مسلمانوں کی یورپ میں آمد کی مخالفت کی جارہی ہے۔

جرمن چانسلر نے کہا کہ ''جب مظاہرین یہ نعرہ لگاتے ہیں کہ ''ہم لوگ ہیں'' تو دراصل وہ یہ کہنا چاہ رہے ہوتے ہیں کہ ''آپ اپنے مذہب یا جلد کی رنگت کی وجہ سے ہم میں سے نہیں ہیں''۔

محبان یورپ گروپ کا کہنا ہے کہ وہ صرف انتہا پسندی کے خلاف احتجاج کررہے ہیں اور وہ تارکین وطن یا اسلام کے مخالف نہیں ہیں لیکن انھیں انتہا پسند گروپوں کی بھی حمایت حاصل ہورہی ہے جس کے پیش نظر اس تشویش کا اظہار کیا جارہا ہے کہ غیرملکیوں کے خلاف نفرت پر مبنی جذبات کو انگیخت مل سکتی ہے۔

جرمنی میں غیر ملکی تارکین وطن کی آمد اور انھیں پناہ دینے کا اقدام ایک اہم موضوع بحث بن چکا ہے۔شام میں جاری خانہ جنگی کے بعد وہاں سے ہجرت کرکے جرمنی جانے والے شامیوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

مذکورہ گروپ کی جانب سے پناہ کے خواہاں ان تارکین وطن کی مخالفت کے باوجود چانسلر اینجیلا مرکل کا کہنا ہے کہ دنیا بھر کے جنگوں اور بحران کے شکار علاقوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کا جرمنی میں خیرمقدم کیا جائے گا۔ان کا کہنا ہے کہ ''ان میں سے بہت سے تو بڑی مشکل سے جانیں بچا کر آرہے ہیں۔ہم پناہ کی تلاش میں آنے والے ان لوگوں کی مدد کریں گے اور انھیں اپنے ہاں رکھیں گے''۔