.

مسجد حرام کے ستتر دروازے کھول دیے گئے

آب زم زم اور قرآنی نسخوں کی وافر فراہمی بھی ممکن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مسجد حرام کی توسیع کے لیے جاری عظیم الشان منصوبے کے تیسرے مرحلے پر تیزی سے عمل کے باوجود مسجد حرام کے ستتر دروازے کھول دیے گئے ہیں۔ ان ستتر دروازوں میں سے چھیالیس دروازے چوبیس گھنٹے کھلے رہیں گے جبکہ اکتیس دروازے جمعہ کے روز نمازیوں کی بڑھی ہوئی تعداد کے پیش نظر کھولے جائیں گے۔

حرمین الشریفین کی مجلس انتظامی میں شعبہ ابواب حرم کے ڈائیریکٹر عبدالله بن مهنا الطميح نے بتایا ہے کہ بڑی تعداد میں دروازے فوری طور پر کھول دیے گئے ہیں تاکہ مسجد حرام میں آنے والے نمازیوں کی سہولت کا اہتمام ممکن ہو۔

انہوں نے بتایا ان دروازوں کے کھولے جانے کا مطلب ہے کہ ان کے ساتھ آب زم زم کی سہولت تک نمازیوں اور عمرہ کے لیے آنے والوں کہ رسائی با آسانی ممکن ہو گئی ہے۔ نیز مسجد حرام میں آنے والوں کے لیے قرآنی نسخوں کی فراہمی بھی ان کی ضرورت کے مطابق ممکن ہو گئی ہے۔

عبدالله بن مهنا الطميح نے کہا توسیعی منصوبے کے تیسرے مرحلے کے تیزی سے جاری ہونے کے باوجود اتنی بڑی تعداد میں دروازوں کو کھولنے کا مقصد مسجد حرام میں داخل ہونے اور باہر جانے میں درپیش مشکلات کو کم کرنا ہے۔

اس موقع پر ڈائریکتر مجلس انتظامی نے نمازیوں سے اپیل کی کہ وہ دروازوں پر موجود حکام اور اہلکاروں کے ساتھ تعاون کریں اور مسجد حرام کی صفائی کو ممکن بنانے میں تعاون کے لیے نظم وضبط کا خیال رکھیں۔

انہوں نے نمازیوں اور خصوصا عمرے کی ادائیگی کے لیے آنے والوں سے اپیل کی کہ وہ مسجد حرام کے باہر رکھے گئے لاکرز کو اپنی قیمتی اشیاء کے تحفظ کے لیے ضرور استعمال کریں۔

ڈائریکٹر نے دروازوں پر ہجوم کے اکٹھے ہونے سے پیدا ہونے والے مسائل سے نمٹنے کے لیے اپیل کی کہ دروازوں پر سرخ بتیوں کے روشن ہونے کے موقع پر نمازی مسجد میں داخل ہونے کی کوشش نہ کریں کیونکہ سرخ بتی کے جلنے کا مطلب ہے کہ مسجد میں مزید جگہ نہیں ہے ۔

اسی طرح نماز کے اوقات کے فوری بعد لوگوں کو مسجد سے باہر آنے کا موقع دیے بغیر اندر جانے کی کوشش نہ کی جائے کہ ایسی صورت دروازوں پر اژدھام پیدا ہو سکتا ہے۔