.

مسلح شخص کی ترک صدر کے دفتر پر فائرنگ

پولیس نے استنبول میں حملہ آور کو جائے وقوعہ سے گرفتار کر لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے سب سے بڑے شہر استنبول میں ایک مسلح شخص نے صدر رجب طیب ایردوآن کے دفتر پر فائرنگ کردی ہے اور ایک دستی بم بھی پھینکا ہے لیکن وہ پھٹ نہیں سکا۔

سی این این ترک نیوز ٹیلی ویژن چینل کی رپورٹ کے مطابق اس حملہ آور شخص کو پولیس نے موقع پر ہی گرفتار کر لیا ہے۔فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوسکا ہے کہ آیا حملے کے وقت صدر ایردوآن دفتر میں موجود تھے یا نہیں۔

اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ نامعلوم حملہ آور خودکار رائفل اور پستول سے مسلح تھا۔اس نے پہلے فائرنگ کی اور اس کے بعد دفتر کی جانب دستی بم پھینکا۔پولیس نے اس ڈیوائس کو ناکارہ بنا دیا ہے۔فوری طور پر گرفتار حملہ آور کے محرکات کا بھی پتا نہیں چل سکا ہے۔

رجب طیب ایردوآن سنہ 2003ء سے 2014ء تک ترکی کے وزیراعظم رہے تھے اور وہ گذشتہ سال ہی عوام کے براہ راست ووٹوں سے ملک کے صدر منتخب ہوئے تھے۔ان کے ناقدین ان پر مطلق العنان حکمرانی کے الزامات عاید کرتے رہتے ہیں اور یورپی یونین کے رکن ممالک بھی حکومت مخالفین کے خلاف پولیس کے کریک ڈاؤن پر ترکی کو تنقید کا نشانہ بناتے رہتے ہیں لیکن خود صدر ایردوآن اس تنقید کو سختی سے مسترد کرچکے ہیں۔