.

افغانستان: شادی کی تقریب پر راکٹ حملہ، 28 افراد ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغانستان کے جنوبی صوبے ہلمند میں طالبان مزاحمت کاروں اور سرکاری فوجیوں کے درمیان جھڑپ کے دوران شادی کی ایک تقریب میں راکٹ گرنے سے اٹھائیس افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

یہ واقعہ ہلمند کے ضلع سنگین میں پیش آیا ہے۔افغان حکام کے بیان کے مطابق بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب فوجیوں اور طالبان مزاحمت کاروں کے درمیان جھڑپ کے دوران راکٹ ایک مکان میں جاکر گرا ہے۔اس وقت اس مکان میں شادی کی ایک تقریب منعقد ہورہی تھی۔

صوبے کے پولیس ترجمان فرید احمد عبید کے مطابق اس راکٹ کے دھماکے میں پینتالیس افراد زخمی ہوئے ہیں۔صوبائی کونسل کے ایک رکن بشیر احمد شاکر کا کہنا ہے کہ مرنے والوں کی تعداد تیس تک ہوسکتی ہے۔

شادی کی تقریب کے میزبان اور دُلھن کے کزن عبدالحلیم نے بتایا ہے کہ ''راکٹ حملے کے بعد سے میرے نو بچے لاپتا ہیں۔میں نے مرنے والوں کے اعضاء ہی اکٹھے کیے ہیں۔اب یہ پتا نہیں ہے کہ یہ میرے بچوں کے ہیں یا کسی اور کے ہیں''۔انھوں نے مزید بتایا کہ مہمان گھر کے باہر دلھن کی آمد کا انتظار کررہے تھے کہ اس دوران ان پر راکٹ آ گرا تھا۔

درایں اثناء ملک کے مختلف علاقوں میں مزاحمت کاروں اور افغان فورسز کے درمیان لڑائی جاری ہے اور مشرقی صوبے ننگرہار میں مسلح افراد نے ایک پولیس افسر اور دو شہریوں کو گولی مار کر ہلاک کردیا ہے۔پولیس اہلکاروں نے حملہ آوروں کی بارود سے بھری کار اور موٹر سائیکل کو روکنے کی کوشش کی تو انھوں نے جواب میں فائرنگ شروع کردی۔صوبائی پولیس سربراہ جنرل فضل احمد شیرزاد کا کہنا ہے کہ پولیس کو شُبہ تھا کہ کارسوار سرکاری عمارتوں پر حملے کے لیے جارہے ہیں۔

وسطی صوبے اُرزگان میں ایک پولیس افسر نے منگل کی شب کھانے کی میز پر فائرنگ کر کے اپنے ہی تین ساتھی افسروں کو ہلاک اور پانچ کو زخمی کردیا ہے۔صوبائی پولیس ترجمان دوست محمد نایاب کا کہنا ہے کہ مسلح افسر فائرنگ کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا ہے اور اس کے حملے کے محرکات کا پتا نہیں چل سکا ہے۔

بدھ کو افغانستان میں امریکا کی قیادت میں نیٹو کے لڑاکا مشن کا بھی خاتمہ ہوگیا ہے۔امریکا اور اس کے اتحادی ممالک نے 11 ستمبر 2001ء کو نیویارک اور واشنگٹن میں دہشت گردی کے حملوں کے بعد اکتوبر کے اوائل میں افغانستان پر چڑھائی کی تھی اور دواڑھائی ماہ میں امریکی فضائیہ کی تباہ کن بمباری کے نتیجے میں طالبان کی حکومت کا خاتمہ ہوگیا تھا اور انھوں نے پھر غیرملکی فورسز کے خلاف مزاحمتی جنگ شروع کردی تھی۔

افغانستان کی ساڑھے تین لاکھ سے زیادہ اہلکاروں پر مشتمل فورسز نے جمعرات سے سکیورٹی کی ذمے داریاں سنبھال لی ہیں۔افغان فورسز نے حال ہی میں ملک میں امن وامان کی بحالی اور طالبان کی مزاحمت کو کچلنے کے حوالے سے بلند بانگ دعوے کیے ہیں لیکن برسرزمین جنگجوؤں کے حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔

گذشتہ سال کے دوران ان حملوں میں اضافے دیکھنے میں آیا تھا۔ان کے نتیجے میں ہلاکتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ اقوام متحدہ کے فراہم کردہ اعدادوشمار کے مطابق 2014ء کے دوران افغان فوج اور پولیس کے قریباً پانچ ہزار اہلکار مارے گئے ہیں اور قریباً دس ہزار عام شہری ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں۔ سنہ2008ء کے بعد ایک سال میں یہ سب سے زیادہ ہلاکتیں ہیں۔

افغان وزارت داخلہ کے ترجمان صدق صدیقی کا کہنا ہے کہ ملک کے جنوبی اور مشرقی صوبوں میں سرکاری فورسز کو طالبان کی مزاحمت کا سامنا رہا ہے۔ان علاقوں میں افغان فورسز کو نیٹو کی فضائی مدد بھی حاصل نہیں تھی لیکن اس کے باوجود انھوں نے افغان طالبان کو کسی ایک ضلع پر بھی قبضہ نہیں کرنے دیا ہے۔