.

افغان فوجیوں پر شادی کی تقریب پر راکٹ حملے کا الزام

کمانڈر سمیت چار فوجی گرفتاری کے بعد ہلمند کے صوبائی دارالحکومت روانہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغان حکام نے سرکاری فوجیوں کو جنوبی صوبے ہلمند میں بدھ کی شب شادی کی ایک تقریب پر مارٹر گولے فائر کرنے کا ذمے دار ٹھہرایا ہے۔ان کے مارٹر حملے میں سترہ خواتین اور بچے ہلاک ہوگئے تھے۔

ہلمند کے ضلع سنگین میں یہ واقعہ اس وقت پیش آیا تھا جب دارالحکومت کابل میں نیٹو فوج کے لڑاکا مشن کے خاتمے کے موقع پر الوداعی تقریب منعقد کی جارہی تھی اور افغان صدر اشرف غنی نے فوج اور پولیس کو سکیورٹی کی ذمے داریاں سنبھالنے پر مبارک باد دی تھی۔

صوبہ ہلمند کے نائب گورنر محمد جان رسول یار نے جمعہ کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''جنگجوؤں کے آرمی کے ایک چیک پوائنٹ پر حملے کے بعد فوجیوں نے شادی کی تقریب پر مارٹر گولے فائر کیے تھے اور اس واقعے کے ذمے دار افغان فوجیوں کا کیس فوجی عدالت میں بھیجا جارہا ہے''۔

شادی کی تقریب پر فائرنگ کے بعد ایک کمانڈر سمیت چار فوجیوں کو گرفتار کر کے صوبائی دارالحکومت لشکرگاہ منتقل کردیا گیا ہے۔افغان حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ ضلع سنگین میں ایک وفد بھیجا گیا تھا۔متاثرہ خاندان نے وفد کو بتایا کہ شادی کی تقریب پر دو راکٹ فائر کیے گئے تھے اور یہ مختلف فوجی چوکیوں کی جانب سے آئے تھے۔

بعض عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ جب دُلھن کو دُلھا کے گھر لایا جارہا تھا تو براتیوں نے خوشی میں ہوائی فائرنگ کی تھی۔اس کے ردعمل میں فوجیوں نے کسی تحقیق کے بغیر حملہ کردیا تھا اور ان کے فائر کیے گئے راکٹ خواتین کے مہمان خانے پر گرے تھے جس کے نتیجے میں سترہ خواتین اور بچے جاں بحق اور انچاس افراد زخمی ہوگئے تھے۔

قبل ازیں افغان حکام نے اس راکٹ حملے میں اٹھائیس ہلاکتوں کی اطلاع دی تھی لیکن اب اس تعداد پر نظرثانی کی گئی ہے۔ہلمند پولیس کے ترجمان فرید عبید کے بہ قول ''عینی شاہدین نے وفد کو بتایا تھا کہ قبل ازیں علاقے میں جنگجوؤں نے ایک سکیورٹی چیک پوائنٹ پر حملہ کیا تھا۔اس کے بعد افغان فوجیوں نے مارٹر گولوں سے جوابی حملہ کیا تھا اور وہ شادی کی تقریب پر آکر گرے تھے۔