.

سعودی عرب: خواتین اینکرز کے لیے عبایا اور سکارف اوڑھنا لازم

ڈریس کوڈ سعودی براڈ کاسٹنگ کارپوریشن نے جاری کیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی براڈکاسٹنگ کارپوریشن نے جمعرات کے دن سے ٹی وی چینلز کی اینکرز کے لیے ڈریس کوڈ کے نفاذ کا فیصلہ کر لیا ہے۔

اس جاری کردہ ڈریس کوڈ کے مطابق خواتین اینکرز کو سیاہ رنگ کی عبایا اورا سی رنگ کا سکارف اوڑھنا ہوگا۔ تاہم خواتین اپنے اپنے چینل کا کارپوریٹ کلر عباوں پر پٹی یا ربن کی صورت میں زیبائش کے لیے استعمال کر سکیں گی۔

بعض مبصرین نے اس حوالے سے کہا ہے کہ سعودی براڈکاسٹنگ کارپوریشن کا یہ فیصلہ صرف نئے سال کی آمد کے سلسلے میں تھا، جبکہ بعض دوسرے مبصرین کا کہنا ہے کہ فیصلہ شوری کونسل کی طرف سے ڈریس کوڈ کے بارے میں ممکنہ اقدامات کو روکنے کی ایک کوشش ہے۔

واضح رہے شوری کونسل میں خاتون رکن کی طرف سے پیش کی گئی تجویز پر شوری کونسل میں اختلاف رائے پایا جاتا ہے۔ شوری کونسل کے متعدد ارکان نے اس تجویز کو غیر قانونی قرار دیا ہے کیونکہ پہلے سے ہی سعودی خواتین کے لیے ایک ڈریس کوڈ نافذ ہے۔

سعودی شوری کونسل میں پچھلے دنوں اس موضوع پر بحث شروع کی گئی تھی۔ ٹی وی اینکرز کے لیے ڈریس کوڈ کی تجویز پر مبنی یہ بل خاتون رکن نورا العدوان نے پیش کیا ہے۔ اس تجویز کی ثقافت اور میڈیا سے متعلق کمیٹی نے حمایت کی ہے۔

ماضی میں اسی طرح کا ایک فیصلہ برادر اسلامی ملک اسلامی جمہویہ پاکستان میں بھی ہو چکا ہے۔ پاکستان میں یہ ڈریس کوڈ جنرل ضیاء الحق مرحوم کے دور میں نافذ کیا گیا تھا جس کے تحت خواتین ٹی وی اینکرز کے لیے دوپٹہ اوڑھنا لازمی قرار دیا گیا تھا۔

اس تجویز میں یہ بھی مطابہ کیا کیا گیا ہے کہ جو ٹی وی اینکر اس مجوزہ ڈریس کوڈ کی پابندی میں ناکام رہیں انہیں ایک ہزار سعودی ریال کا جرمانہ کیا جائے۔ تاہم معلوم ہوا ہے کہ شوری کونسل نے اس موضوع پر واضح اختلاف کی وجہ سے فیصلہ موخر کر دیا ہے۔