.

امریکا ابو حمزہ المصری کی عمر قید کے لیے کوشاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شدت پسند مبلغ ابو حمزہ المصری کے امریکا میں جاری ٹرائل کے دوران استغاثہ نے انہیں عمر قید کی سزا دلوانے کی کوششیں شروع کی ہیں۔ امریکا میں وکلاء استغاثہ نے ایک وفاقی عدالت پر زور دیا کہ وہ دہشت گردی پر اکسانے کے الزام میں ملوث ابو حمزہ المصری کو سخت سزا دے۔

خیال رہے ابو حمزہ المصری پر امریکا میں پچھلے کئی ماہ سے مقدمہ چلایا جا رہا ہے۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے برطانیہ میں ایک مسجد میں امامت اور خطابت کے دوران نہ صرف اپنی تقریروں میں لوگوں کو دہشت گردی پر اکسایا تھا بلکہ مسجد میں دہشت گردی کی تبلیغ کے لیے کئی کانفرنسیں منعقد کی تھیں۔ عدالت میں جاری مقدمہ کی کارروائی کے بعد نو جنوری کو المصری کے خلاف فرد جرم سنائے جانے کا امکان ہے۔

امریکی حکومت کے نمائندگان انہیں عدالت سے عمر قید کی سزا دلوانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ امریکی جیوری نے 56 سالہ ابو حمزہ المصری کے خلاف مین ہٹن کی ایک وفاقی عدالت میں گذشتہ برس مئی میں دو اہم مقدمات کا ٹرائل شروع کیا تھا۔

دونوں ہاتھوں اور ایک آنکھ سے معذور ابو حمزہ المصری پر یمنی شدت پسندوں کو سنہ 1998ء میں مغربی سیاحوں کے اغواء پر اکسانے کا الزام ہے۔ عسکریت پسندوں نے اغواء کےبعد چار مغربی سیاح قتل کر دیے تھے۔

اس کے علاوہ ابو حمزہ المصری پر اوریگون میں فوجی ٹریننگ سینٹر کے قیام میں مدد فراہم کرنے اور شدت پسندوں کو افغانستان میں القاعدہ اور طالبان کے ہمراہ جنگ میں شامل ہونے کے لیے ترغیب دینے کا بھی الزام عاید کیا گیا ہے۔

ابو حمزہ کے وکلاء کا کہنا ہے کہ امریکی عدالت میں ان کے موکل کے خلاف جاری عدالتی کارروائی میں استغاثہ کی جانب سے مبالغہ آرائی پر مبنی لہجہ اختیار کرنے انہیں سخت سزا دلوانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ابو حمزہ المصری لندن کے فنسبیری پارک کی مسجد میں امام اور خطیب تھے۔ ان کا براہ راست عسکریت پسندی کی کسی کارروائی میں کوئی ہاتھ نہیں ہے۔ اگر ان کی تقاریر سے متاثر ہو کر کسی نے شدت پسندانہ راستہ اختیار کیا ہے تو اس میں المصری کا کیا قصور ہے۔

تاہم وکلاء استغاثہ کا کہنا ہے کہ المصری صرف ایک امام اور خطیب ہی نہیں بلکہ ایک شدت پسند شخص ہیں جو نفرت پر مبنی بیانات جاری کرتے اور اشتعال انگیز تقاریری کرتے رہے ہیں۔ اس لیے انہیں سخت سز ملنی چاہیے۔