.

ایف بی آئی کے غیرملکی ملازمین''سکیورٹی تعصب'' کی زد میں!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف بی آئی) کے غیر ممالک سے تعلق رکھنے والے ملازمین کو ممکنہ جاسوسی سے بچنے کے لیے غیر منصفانہ اور متعصبانہ پروگرام کا سامنا ہے۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز میں شائع شدہ ایک رپورٹ کے مطابق:''کلاسیفائیڈ معلومات تک رسائی رکھنے والے ایف بی آئی کے تمام ملازمین کی سکریننگ کی جاتی ہے لیکن ایف بی آئی کے زبانوں کے ماہرین (مترجمین) ،ایجنٹوں اور غیرملکی مہارتیں رکھنے والے دوسرے عملے کو بھی بار بار سکیورٹی انٹرویوز ،پولی گراف ٹیسٹوں اور ابلاغی جائزے کے عمل سے گزرنا پڑتا ہے''۔

ایف بی آئی نے فوری طور پر اس رپورٹ پر تبصرہ نہیں کیا ہے۔اس نے امریکا پر 11 ستمبر 2001ء کو حملے کے بعد نئے بھرتی کیے جانے والے لسانی ماہرین کی نگرانی اور باہر کے لوگوں سے لاحق خطرات کو کم کرنے کے لیے اس پروگرام پر عمل درآمد کا آغاز کیا تھا۔

اس کے بعد اس پروگرام کو وسعت دے دی گئی تھی اور اب تک کلاسیفائیڈ اطلاعات تک رسائی رکھنے والے ایف بی آئی کے قریباً ایک ہزار ملازمین اس پروگرام سے متاثر ہو چکے ہیں۔اس امریکی ایجنسی کے ملازمین کی تعداد قریباً چھتیس ہزار ہے اور اس کے لیے ٹھیکے پر کام کرنے والے ہزاروں افراد کی تعداد اس کے سوا ہے۔

ایف بی آئی کے مذکورہ پروگرام کے متاثرین میں زیادہ تر مسلمان اور ایشیائی نژاد ملازمین شامل ہیں۔انھیں انٹیلی جنس اور انسداد دہشت گردی کے لیے بھرتی کیا گیا تھا۔نیویارک ٹائمز نے لکھا ہے کہ ایف بی آئی کے سکروٹنی کا شکار ملازمین نے سکریننگ پروگرام سے بچنے کے لیے بیرون ملک اپنے خاندانوں اور دوستوں سے ہر طرح کے روابط منقطع کر لیے ہیں۔

مصری نژاد ایجنٹ جمال عبدالحفیظ کا کہنا ہے کہ ''نائن الیون کے بعد نئے بھرتی شدگان کے لیے تو یہ پروگرام بہتر تھا لیکن اس کو ایجنسی کے ساتھ اس وقت دس سے پندرہ سال سے وابستہ لوگوں پر بھی آزمایا گیا اور یہ ان کے لیے ناقابل قبول تھا''۔

جمال عبدالحفیظ نے 1994ء میں ایف بی آئی میں مترجم کے طور پر شمولیت اختیار کی تھی اور انھیں 2012ء میں اس پروگرام سے گزرنا پڑا تھا۔ان کا کہنا ہے کہ انھیں اب ان کے کام کے لیے درکار ٹاپ سیکرٹ معلومات نہیں دی جاتی ہیں۔

دوسرے ملازمین نے اخبار کو بتایاکہ انھیں نگرانی کے عمل سے گزرنے کے بعد انڈر کور یا بیرون ملک ذمے داریوں کے حصول کے سلسلے میں زیادہ چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ تاہم ایف بی آئی کے سینیر عہدے داروں کا کہنا ہے کہ اس پروگرام سے امریکا کے قومی سلامتی کے مفادات کا تحفظ ہوا ہے۔اس میں ملازمین میں کوئی امتیاز برتا جاتا ہے اور نہ ان کے کیرئیر میں کوئی رکاوٹ حائل ہوتی ہے۔