.

داعش جنگجوئوں کے حملے میں لیبیا کے 14 سپاہی ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیببیا کی حکومت نے ملک کےجنوبی علاقے میں ایک گوریلا کارروائی میں کم سے کم چودہ سرکاری فوجی ہلاک کر دیے ہیں۔

لیبیا کی حکومت کی جانب سے جاری ایک بیان میں بتایاکہ شام اور عراق میں سرگرم دولت اسلامی’’داعش‘‘ کے حامی ایک گروپ نے ملک کے جنوبی علاقے کی ایک مرکزی شاہراہ پر فوج کے ایک قافلے پر گھات لگا کرحملہ کیا جس کے نتیجے میں کم سے کم چودہ فوجی ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔

خیال رہے کہ گذشتہ برس اگست میں لیبیا میں سرگرم عسکریت پسند گروپ فجر لیبیا اور مصراتۃ نے دارالحکومت طرابلس پرقبضہ کرنے کے بعد وہاں سے حکومت کو نکال باہر کیا تھا جس کے بعد وزیراعظم عبداللہ الثنی کو سرکاری دفاتر ملک کے مشرقی شہر میں منتقل کرنا پڑے تھے۔

حکومت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پیادہ فوج کے بریگیڈ168 میں شامل چودہ سپاہی داعش کے حامی ایک گروپ کے ہاتھوں مارے گئے ہیں۔ بیان میں عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ دہشت گرد گروپوں کے بین الممالک اسلحہ کی سپلائی روکنے کے لیے موثراقدمات کرے تاکہ لیبیامیں دہشت گردوں کوشکست دی جاسکے۔

خیال رہے کہ حال ہی میں دولت اسلامی کی لیبیا میں قائم شاخ کی جانب سے اپنی ویب سائیٹ پر چودہ لیبی فوجیوں کوہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا اور مہلوکین کی تصاویر بھی پوسٹ کی گئی تھیں جنہیں گولیاں مار کر موت کے گھاٹ اتار گیا تھا۔

لیبی پارلیمنٹ نے فوجیوں کی ہلاکت کو دہشت گردانہ کارروائی قراردیتے ہوئے اس کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

لیبیا میں سابق مقتول صدر معمر قذافی کی سنہ 2011ء میں طویل حکومت کے خاتمے کے بعد ملک میں عملا دوالگ الگ حکومتیں اور پارلیمنٹ کے متوازی ایوان قائم ہیں۔ دونوں کی اپنی فوج اور سیکیورٹی ملیشیا اپنے طورپر ایک دوسرے کے خلاف سرگرم عمل ہیں۔ ملک میں پائی جانے والی اس تقسیم پرمغربی دنیا اور پڑوسی ممالک کو بھی سخت تحفظات ہیں۔

مغرب کو خدشہ ہے کہ لیبیا میں جاری شورش سے دولت اسلامی جیسے طاقت ور گروپ فائدہ اٹھا کر اپنی مرضی کا نظام مسلط کرسکتے ہیں۔ یوں لیبیا جیسے تیل کی دولت سے مالا مالک ملک کے وسائل عسکریت پسندوں کے ہاتھ لگنے سے عرب ممالک میں عسکریت پسندی میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔

عبداللہ الثنی کی حکومت طرابلس میں قائم حکومت پر اسلامی شدت پسندوں سے معاونت کے حصول کا الزام عاید کیا ہے۔ تاہم طرابلس نے اس الزام کی تردید کی ہے اور جوابی الزام میں کہا ہے کہ عبداللہ الثنی کی حکومت میں کرنل قذافی کی فوج کے افسران بھی شامل ہیں۔

پچھلے ماہ افریقا میں امریکی فوج کے سربراہ نے کہا تھا کہ مشرقی لیبیا میں داعش سینکڑوں افراد کی عسکریت تربیت کررہی ہے۔ امریکی فوج داعش کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہے۔