.

صومالی دارالحکومت میں کار بم دھماکا

سکیورٹی فورسز کو بم حملے میں نشانہ بنانے کی ناکام کوشش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

صومالیہ کے دارالحکومت موغادیشو میں سکیورٹی افسروں کو ایک کار بم حملے میں نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی ہے مگر وہ اس حملے میں محفوظ رہے ہیں۔

صومالی پولیس کے کپتان عثمان الٰہی نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ ''نیشنل فورسز کو دارالحکومت میں ایک کار بم کی موجودگی کی اطلاع ملی تھی۔جب سکیورٹی اہلکار علاقے میں اس کی تلاش کے لیے پہنچے تو وہ دھماکے سے پھٹ گئی۔ہم اس کی مزید تحقیقات کررہے ہیں۔

فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوا ہے کہ آیا اس کار بم دھماکے کے نتیجے میں کوئی جانی نقصان بھی ہوا ہے یا نہیں۔کسی گروپ نے اس کار بم دھماکے کی ذمے داری قبول نہیں کی ہے۔علاقے کے مکینوں نے اس کے بعد فائرنگ کی اطلاع دی ہے اور سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کا محاصرہ کر لیا ہے۔

نور ابراہیم نامی ایک دکان دار کا کہنا تھا کہ دھماکا اتنا شدید تھا کہ اس کے بعد ہر طرف دھواں اور غبار ہی نظر آرہا تھا۔واضح رہے کہ ماضی میں سخت گیر جنگجو گروپ الشباب اس طرح کے بم حملوں کی ذمے داری قبول کرتا رہا ہے۔الشباب کے جنگجو مغرب کی حمایت یافتہ حکومت کے خلاف مسلح جنگ لڑ رہے ہیں۔تاہم حالیہ مہینوں کے دوران اس گروپ کی مزاحمتی جنگ کی شدت میں کمی واقع ہوئی ہے۔