.

یمن: بم دھماکے میں صحافی سمیت 6 افراد ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں حوثی شیعہ باغیوں کے کنٹرول والے شہر ذمار میں بم دھماکے کے نتیجے میں ایک صحافی سمیت چھے افراد ہلاک اور اکتیس زخمی ہوگئے ہیں۔

یمنی حکام کے مطابق اتوار کو ذمار شہر میں حوثی شیعہ جنگجوؤں کے ایک اجتماع کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔یمن کی سرکاری خبررساں ایجنسی سبا نے اطلاع دی ہے کہ بم دھماکے میں پاپولر کمیٹیوں کے تین ارکان اور ایک رپورٹر جان کی بازی ہار گئے ہیں۔واضح رہے کہ حوثی باغیوں نے اپنے زیر قبضہ علاقوں میں نظم ونسق کے لیے پاپولر کمیٹیوں کے نام سے مقامی پولیس فورس تشکیل دے رکھی ہے۔

بم دھماکے میں مرنے والے صحافی کی شناخت خالد الواشلی کے نام سے کی گئی ہے۔وہ حوثیوں کے ملکیتی المسیرۃ ٹیلی ویژن چینل کے ساتھ رپورٹر کے طور پر وابستہ تھے۔

سبا کا کہنا ہے کہ پاپولر کیمٹیوں کے ارکان نے ذمار میں اپنے زیر قبضہ ایک عمارت سے بم برآمد کیا تھا اور وہ ناکارہ بناتے ہوئے دھماکے سے پھٹ گیا۔تاہم ایک سکیورٹی عہدے دار کا کہنا ہے کہ بم ایک گاڑی کے ساتھ نصب کیا گیا تھا اور اس کے دھماکے میں چھے افراد ہلاک اور ستائیس زخمی ہوئے ہیں لیکن آزاد ذرائع سے ان ہلاکتوں کی تصدیق ممکن نہیں ہے۔

واضح رہے کہ حوثی باغیوں نے ستمبر سے دارالحکومت صنعا سمیت یمن کے بیشتر شمالی اور وسطی علاقوں میں سرکاری سکیورٹی فورسز کو نکال باہر کرنے کے بعد اپنی عمل داری قائم کررکھی ہے۔انھوں نےصنعا کے جنوب میں واقع ذمار پر بآسانی قبضہ کرلیا تھا کیونکہ اس شہر میں اہل تشیع کی اکثریت ہے اور انھوں نے حوثیوں کا خیرمقدم کیا تھا جبکہ انھیں وسطی اور جنوبی شہروں میں القاعدہ اور مقامی سنی جنگجو گروپوں کی جانب سے سخت مزاحمت کا سامنا ہے۔

گذشتہ جمعرات کو یمن کے وسطی شہر ایب میں ایک خودکش بم دھماکے کے نتیجے میں کم سے کم پچاس افراد ہلاک ہو گئے تھے۔یمنی حکام کے مطابق حوثی شیعہ باغیوں کے حامی ایک مذہبی جشن کی تیاریوں میں مصروف تھے۔اس دوران حملہ آور بمبار نے ان کے درمیان آ کر خود کو دھماکے سے اڑا دیا تھا۔کسی گروپ نے اس بم حملے کی ذمے داری قبول نہیں کی تھی لیکن ماضی میں القاعدہ کی یمنی شاخ اس طرح کے بم حملوں کی ذمے داری قبول کرتی رہی ہے۔