.

"ایرانی خواتین کو زبردستی پردہ نہیں کرایا جا سکتا"

گارڈین کونسل نے جبری حجاب سے متعلق قانون کا مسودہ مسترد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کی گارڈین کونسل نے مذہبی پولیس کو ملک بھر میں خواتین سے حجاب کی پابندی کرانے اور مذہبی لباس اختیار کرنے سے متعلق خصوصی اختیارات دینے کا قانون مسترد کر دیا ہے۔

ایران کے سرکاری خبر رساں اداروں کی رپورٹس کے مطابق گارڈین کونسل نے ہفتے کے روز اپنے ایک فیصلے میں مذہبی پولیس کو حجاب سے متعلق قانون کے نفاذ کے لیے خصوصی اختیارات دینے جانے کا قانون مسترد کر دیا۔ گارڈین کونسل نے قانون میں ترمیم کی سفارش کرتے ہوئے خواتین کے حجاب کے معاملے کو پولیس کے دائرہ اختیار سے باہر رکھنے کی سفارش کی ہے۔

خیال رہے کہ حال ہی میں ایرانی مجلس شوریٰ میں ایک مسودہ قانون پیش کیا گیا تھا جس کا ایک مسودہ غور وخوض کے لیے گارڈین کونسل کو بھی پیش کیا گیا۔ تاہم آئین سازی کے اس اہم نگراں ادارے نے خواتین کو پولیس کے ذریعے حجاب کا پابند بنانے کا قانون مسترد کر دیا گیا ہے۔

دستوری کونسل کے ترجمان کے مطابق حجاب سے متعلق مسودہ قانون کی چوبیس دفعات میں سے 14 ملک کے آئین اور دستور کے خلاف ہیں جن پر اتفاق رائے نہیں ہو سکتا ہے۔

ایران کے قدامت پسند ارکان پارلیمنٹ نے چند روز پیشتر ایک مسودہ قانون پیش کیا تھا جس میں مذہبی پولیس کو خواتین کو اسلامی لباس کا پابند بنانے کے لیے خصوصی اختیارات دینے کی سفارش کی گئی تھی۔

واضح رہے کہ ایران میں سنہ 1979ء میں برپا ہونے والے ولایت فقیہ کے انقلاب کےبعد ملک میں سخت گیر مذہبی قوانین نافذ کیے گئے تھے۔ ان قوانین کے تحت خواتین کو اپنے سر کے بال اور چہرے کو ڈھانپنے کی سختی سے تاکید کی گئی ہے۔ مذہبی لباس کی خلاف ورزی کرنے پرخواتین کو جرمانہ اور جیل کی سزائوں کا بھی سامنا رہا ہے۔

وقت گذرنے کے ساتھ ایران میں خواتین کے ہاں چست اور مختصر لباس کی روایت بھی تیزی سے مقبول ہو رہی ہے۔ کھلے عبایا اور برقعوں کے بجائے خواتین زیادہ تر مختصر لباس زیب تن کرتی ہیں اور روایتی بڑی چادروں کا استعمال کم کیا جاتا ہے۔

ایسے میں قدامت پسند حلقوں کی طرف سے خواتین کو مذہبی لباس کا پابند بنانے کے لیے ایک نیا قانون منظور کرانے کی کوشش کی گئی ہے تاکہ خواتین کو پولیس کے ذریعے اسلامی لباس کی پابندی پر مجبور کیا جا سکے۔ دستوری کونسل نے مسودہ قانون میں متعدد ترامیم تجویز کرنے کے بعد ان پر دوبارہ بحث کا حکم دیا ہے۔