.

تہران: دوران حراست ایرانی دوشیزہ سے شرمناک سلوک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں بچوں کے حقوق کے لیے سرگرم خاتون سماجی کارکن آتینا فرقدانی نے انکشاف کیا ہے کہ گذشتہ برس تہران کی بدنام زنامہ جیل ’’افین‘‘ میں دوران حراست جیلروں اور تفتیش کاروں نے اس کے ساتھ نہایت شرمناک سلوک کیا۔

آتینا فرقدانی نے بتایا کہ دوران حراست اسے وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنائے جانے کے لیے عریاں کر دیا جاتا۔ اس کے علاوہ ان کے غسل خانوں میں خفیہ کیمرے نصب کیے گئے تھے جنہیں پاسداران انقلاب کے انٹؒیلی جنس اہکار مانیٹر کرتے۔ انہوں نے جیل میں قید خواتین کی غسل خانوں میں تصاویر اور ویڈیوز بنانے جیسے شرمناک ہتھکنڈوں سے بھی گریز نہیں کیا۔

انسانی حقوق کے اداروں کی مقرب خبر رساں ایجنسی’’ھرانا‘‘ کی رپورٹ کے مطابق فرقدانی کو ایرانی پولیس نے گذشتہ برس اگست میں ملک میں بچوں کے ساتھ ہونے والی بدسلوکی اور سیاسی قیدیوں کے اہل خانہ سے ملاقات کی پاداش میں حراست میں لیا اور دو ماہ تک افین جیل میں قید رکھا گیا۔

ادھر فارسی نیوز ویب پورٹل ’’جرس‘‘ کے مطابق تہران کی ایک انقلاب عدالت نے اتینا فرقدانی کو افین جیل میں اپنے ساتھ ہونے والی بدسلوکی پر مبنی ایک فوٹیج نشر کرنے پر طلب کیا ہے۔ اس ویڈیو میں فرقدانی نے اپنی گرفتاری اور اس کے بعد جیل میں ہونے والی مبینہ بدسلوکی کے بارے میں تفصیلات جاری کی ہیں۔ اس کا کہنا ہے کہ جیل سے اس کی رہائی ضمانت پر اس وقت ہوئی جب وحشیانہ تشدد کے نتیجے میں میری حالت زیادہ بگڑ گئی تھی۔

ویڈیو فوٹیج میں فرقدانی نے دعویٰ کیا ہے کہ جیل میں خواتین کے غسل خانوں میں خفیہ کیمرے نصب تھے۔ جب میں ان خفیہ کیمروں کے بارے میں کوئی استفسار کرتی تو مجھے جواب دیا جاتا یہ کیمرے کام نہیں کرتے۔

اس نے بتایا کہ ایک روز میں واش روم سے اپنے کمرے کی طرف آتے ہوئے ایک ٹوکری سے کاغذ کے دو ٹکرے اٹھا کر کپڑوں میں چھپا لیے۔ جب میں آگے بڑھی تو میں نے ایک خاتون اہلکارہ کو اس کی ساتھی سے یہ کہتے سنا کہ ویڈیو کیسٹ دوبارہ چلائیں اور دیکھیں کہ اس نے نے ٹوکریوں سے کیا چیز اٹھائی ہے۔ مجھے اس کے بعد یقین ہو گیا کہ یہ خفیہ کیمرے کام کرتے ہیں۔ کیونکہ انہوں نے مجھے کیمرے ہی کی مدد سے ٹوکری سے کاغذ اٹھاتے دیکھا تھا۔

فرقدانی نے بتایا کہ جیل میں دوران حراست کئی بار خواتین جیلروں نے اس کے کپڑے تک اتار دیے۔ ایک دن میں نے مزاحمت کی تو جیلر خاتون نے ایک اور خاتون اہلکار بلالی جنہوں نے مجھے ایک ستون کے ساتھ باندھا اور مجھے عریاں کرنے لگیں۔ میں نے چلانے کی کوشش کی تو ان میں سے ایک نے کہا کہ چلائو نہیں۔ نچلی منزل میں مرد قیدی سن رہے ہیں۔ اس نے میرے منہ پر ہاتھ رکھ دیا اور کہا کہ اب کی بار اگر چلائی تو میں منہ توڑ دوں گی۔