.

درباری علماء سیسی کے فلسفہ انقلاب کے پروموٹر بن گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر میں اخوان المسلمون کی منتخب حکومت کا تختہ الٹے جانے کے بعد ملک کے مذہبی اور سیکولر طبقات کے درمیان کشمکش میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ سیاسی تبدیلیوں کی کھینچا تانی میں مذہبی طبقات بھی ایک دوسرے کے خلاف صف آراء دکھاتی دیتے ہیں۔

ایک جانب اخوان المسلمون کے فکرو فلسفے کے حامی علماء اپنے مخصوص انداز میں دین اور سیاست کی تعبیر پیش کر رہے ہیں اور دوسری جانب موجودہ حکمراں طبقہ اور اس کے ہمنوا درباری علماء بالخصوص جامعہ الازھر سے وابستہ ‘فقہاء’ صدر عبدالفتاح السیسی کی پالیسیوں کو شرعی جواز فراہم کرنے کے لیے ہمہ تن مصروف ہیں۔

جامعہ الازھر کی 'پے رول' پر موجود علماء نے صدر عبدالفتاح السیسی کی پالیسیوں کی کھل کر حمایت کے ساتھ ان کے سیاسی اور مذہبی نظریات کو بھی قبولیت کا جامہ پہنانے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رکھا ہے۔

حال ہی میں صدر عبدالفتاح السیسی نے اخوان المسلمون کے مذہبی نظریات اور سیاسی فلسفے کو باطل ثابت کرنے کے لیے اپنے درباری علماء کو کردار ادا کرنے کی دعوت دی اور کہا کہ مسلمان امہ کے قلب ودماغ کو غلط راستے کی طرف موڑنے والے نظریات کو ختم کر کے ان کی جگہ اسلام اور سیاست کی دُرست تعبیرات قوم کے سامنے پیش کی جائیں۔ ان اصطلاحات اور مفاہیم کی اصلاح کی جائے جنہیں اخوانی فکرو فلسفے نے بگاڑ کر رکھ دیا ہے۔ ان کے نزدیک فیلڈ مارشل ریٹائرڈ عبدالفتاح السیسی نے صدر بننے کے بعد دین اسلام کے بنیادی اصولوں اور اس کی مقدس اصطلاحات کے خلاف بغاوت کی ہے۔

تاہم حکومت اور صدر کے حامی ازھری علماء کا کہنا ہے کہ صدر عبدالفتاح السیسی نے ملک میں اسلام کی حقیقی تعبیر متعارف کی اور ملک میں حقیقی اصلاحی دینی انقلاب کا علم بلند کیا ہے۔ صدر السیسی نے قرون اولیٰ کی ان تمام تعبیرات کو معاصر سیاست سے الگ کرتے ہوئے یہ ثابت کیا ہے کہ قدیم اسلامی اصطلاحات کو آج کے جدید دور میں اپنانے کا کوئی شرعی جواز ہے اور نہ ہی قرآن وسنت میں اس کی کوئی قطعی دلیل موجود ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے علماء ازھر نے کہا کہ عبدالفتاح السیسی پہلے حاکم وقت ہیں جنہوں نے واضح جرات اور شفافیت کے ساتھ اصلاحات کا ایجنڈا اپنایا ہے۔ انہوں نے دینی اور سیاسی اصطلاحات کی درست اور مطلوبہ تعبیر اور مفہوم قوم کے سامنے رکھا لیکن دوسری جانب گمراہ خیالات اور دین کو اپنے مخصوص سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے استعمال کرنے والوں نے صدر السیسی کی اصلاحی فکر کو اسلام سے بغاوت سے تعبیر کرنے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے یہ ثابت کیاکہ صدر السیسی جو کچھ کر رہے ہیں وہ سب اسلام اور مسلمانوں کی تاریخی روایات کو مٹانے کی ایک سازش ہے۔

علماء ازھر کا کہنا ہے کہ صدر السیسی پر تنقید کرنے والے قدیم زمانے کی اصطلاحات کو رواج دینا چاہتے ہیں تاکہ معاشرے میں انتشار اور شکوک وشبہات کی فضاء کو عام کرکے لوگوں کو گمراہ کیا جا سکے۔ ان کا کہنا ہے کہ آج کے دور میں قدیم اسلامی اصطلاحات کو بزور بازو نافذ کرنے کا دوسرا نام’’تکفیر‘‘ ہے اور اس کی زندہ مثال شام اور عراق میں دولت اسلامی داعش کی شکل میں موجود ہے۔

جامعہ الازھر میں اسلامی شریعت کے استاد ڈاکٹر احمد کریمہ نے’’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فقہ کی کلاسیکل کتب میں اس دور کی مناسبت سے اصطلاحات استعمال کی گئی ہیں۔ مثال کے طور پر پرانی کتابوں میں جزیہ، غلام، لونڈی، غنائم، جہاد، گھوڑے، خچر اور اس نوعیت کے خواتین سے متعلق احکامات اور اصطلاحات شامل ہیں۔

انہی اصطلاحات کو آج کے دور میں اختیار کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ صدر عبدالفتاح السیسی نے ان اصطلاحات کو ترک کرے اس کی جگہ نئی اور عصر حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ اصطلاحات اور تعبیرات پیش کرنے کا درست مطالبہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ صدر السیسی جب دینی انقلاب کی بات کرتے ہیں تو ان کی مراد انتہا پسندانہ فکر کے خلاف انقلاب ہے جس کے نتیجے میں اسلامی کی صحیح تعبیر کے بجائے غلط تشریح پیش کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدر کی جانب سے سیاسی اور دینی اصطلاحات میں تبدیلی کا مطالبہ وقت کا تقاضا ہے اور صدر السیسی نے بہت مناسب وقت میں اس پر کام پر زور دیا ہے۔

جامعہ الازھر کے ایک دوسرے عالم دین اور جامعہ کے سابق سیکرٹری الشیخ فوزی الزفزاف نے کہا کہ اسلام کوئی جامد مذہب نہیں بلکہ دین حنیف میں اجتہاد کے دروازے ہر دور میں کھلے رہے ہیں۔ جو لوگ قدیم دور کی اصطلاحات کو آج کے دور میں نافذ کرنا چاہتے ہیں وہ دین میں اجتہاد کے بجائے جمود کی کوشش کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تاریخ اسلام کے مختلف ادوار میں علماء اپنے اپنے زمانے کے مطابق نصوص قرآنی اور احادیث کی روشنی میں اجتہاد کرتے اور مسائل کا استنباط کرتے رہے۔ تاہم ہر آنے والے وقت کے علماء نے پہلی تعبیر کو اختیار کرنے بجائے اس میں مزید اجتہاد کیا اور نئے نئے معانی اور مفاہیم سامنے لائے۔ اگر علماء کی جانب سے اجتہاد نہ کیا جاتا تو دین اسلام میں جمود پیدا ہو جاتا اور ہم اسلام کی حقیقی تعبیر کو وقت اور زمانے کے مطابق نہ سمجھ پاتے۔

الشیخ الزفزاف نے مزید کہا کہ اگر دین اسلام میں جمود کو تسلیم کیا جائے تو ہم کیسے کہہ سکتے ہیں کہ قرآن اور اسلام قیامت تک بنی نوع انسان کی رہ نمائی کرتا رہے گا۔ یہ تب ہی ممکن ہے کہ علماء ہر دور میں اسلام میں اجتہاد کر کے زمانے میں ہونے والے تغیرات کو بھی مشرف بہ اسلام کرنے کی راہ نکالیں تاکہ ہر دور میں اسلام کو زندہ رکھا جا سکے۔