.

کابل میں یورپی پولیس پر خودکش بم حملہ ،ایک ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغان دارالحکومت کابل میں یورپی پولیس کے تربیتی مشن کے ہیڈکوارٹرز کے نزدیک ایک خودکش بمبار نے حملہ کیا ہے جس کے نتیجے میں ایک افغان شہری ہلاک اور پانچ زخمی ہوگئے ہیں۔

طالبان نے اس حملے کی ذمے داری قبول کرلی ہے۔افغان دارالحکومت میں کسی غیر ملکی ہدف پر یہ پہلا بم حملہ ہے۔یورپی یونین کے پولیس مشن کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ کابل کے مشرقی علاقے میں سوموار کو دوپہر کے وقت بارود سے بھری کار میں سوار ڈرائیور نے بظاہر مشن کے گاڑیوں کے ایک قافلے کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تھی۔تاہم حملے میں گاڑیوں میں سوار افراد محفوظ رہے ہیں''۔

کابل کے پولیس سربراہ حشمت ستنکزئی نے ایک بیان میں بم دھماکے میں ایک ہلاکت اور پانچ افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔قبل ازیں کابل کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے نزدیک بم دھماکا ہوا تھا۔تاہم اس سے کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔

واضح رہے کہ طالبان مزاحمت کاروں نے 2014ء کے آخری ہفتوں کے دوران کابل میں حکومت ،فوج اور غیر ملکی اہداف پر متعدد حملے کیے تھے اور ان میں چھے غیرملکی ہلاک ہوگئے تھے۔

ہلمند واقعہ کی تحقیقات

درایں اثناء جنوبی صوبے ہلمند میں ایک تحقیقات کار نے کہا ہے کہ نئے سال کے آغاز کے موقع پر شادی کی تقریب پر راکٹ حملے کے الزام میں مزید دو فوجیوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

افغان صدراشرف غنی کی جانب سے ہلمند کے ضلع سنگین میں واقعے کی تحقیقات کے لیے بھیجے گئے وفد کے رکن دین محمد نے کہا ہے کہ شادی کی تقریب پر گولہ باری کے وقت فوجیوں کا مزاحمت کاروں کے ساتھ شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا تھا۔انھوں نے کہا کہ گرفتار دونوں فوجیوں سے اس امر کی بھی تحقیقات کی جائے گی کہ آیا انھوں نے گھر پر جان بوجھ کر تو فائرنگ نہیں کی تھی۔

قبل ازیں بھی افغان حکام نے سرکاری فوجیوں کو ضلع سنگین میں گذشتہ بدھ کی شب شادی کی تقریب پر مارٹر گولے فائر کرنے کا ذمے دار ٹھہرایا تھا۔ان کے حملے میں سترہ خواتین اور بچوں سمیت اٹھائیس افراد ہلاک اور پچاس زخمی ہوگئے تھے۔

صوبہ ہلمند کے نائب گورنر محمد جان رسول یار نے جمعہ کو ایک بیان میں کہا تھا کہ اس واقعے کے ذمے دار افغان فوجیوں کا کیس فوجی عدالت میں بھیجا جارہا ہے۔شادی کی تقریب پر راکٹ حملے کے الزام میں ایک کمانڈر سمیت چار فوجیوں کو گرفتار کر کے صوبائی دارالحکومت لشکرگاہ منتقل کیا گیا تھا۔متاثرہ خاندان نے تحقیقاتی وفد کو بتایا تھا کہ مکان پر دو راکٹ فائر کیے گئے تھے اور یہ مختلف فوجی چوکیوں کی جانب سے آئے تھے۔