.

لیبیا میں فرانس کی مداخلت کا امکان مسترد

مداخلت کے لیے اقوام متحدہ کا واضح مینڈیٹ ہونا چاہیے:فرانسو اولاند

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانس کے صدر فرانسو اولاند نے واضح کیا ہے کہ ان کا ملک لیبیا میں یک طرفہ طور پر مداخلت نہیں کرے گا۔انھوں نے خانہ جنگی کا شکار اس ملک میں بحران کے خاتمے کے لیے اقوام متحدہ کے ایک واضح مینڈیٹ کی ضرورت پر زوردیا ہے۔

صدراولاند نے ریڈیو فرانس کے ساتھ سوموار کو ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ''ہم جنوب میں دہشت گردی پر قابو پانے کے لیے کام کررہے ہیں لیکن فرانس لیبیا میں مداخلت نہیں کرے گا کیونکہ یہ اب عالمی برادری پر منحصر ہے کہ وہ اپنی ذمے داریاں پوری کرے''۔

ان سے جب سوال کیا گیا کہ کیا اقوام متحدہ کے مینڈیٹ کی صورت میں فرانس لیبیا میں کوئی کارروائی کرے گا تو انھوں نے اس کے جواب میں کہا کہ ''یہ مینڈیٹ واضح ہونا چاہیے،واضح تنظیم اور سیاسی شرائط ہونی چاہئیں''۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ ''ابھی ہم اس راستے پر چلنے والے نہیں ہیں''۔

واضح رہے کہ فرانس نے لیبیا کے مطلق العنان صدر معمر قذافی کے اقتدار؛ کے خاتمے کے لیے بین الاقوامی فوجی مہم کی قیادت کی تھی لیکن 2011ء میں ان کی اقتدار سے رخصتی اور اندوہناک موت کے بعد سے لیبیا بدترین خانہ جنگی کا شکار ہے۔اب بیک وقت دو متوازی حکومتیں اور پارلیمان کام کررہی ہیں اور ان کے تحت ملیشیائیں ایک دوسرے کے علاقوں اور شہروں پر قبضے کے لیے باہم محاذ آراء ہیں۔

پڑوسی ملک نیجر کے صدر محمدو ایسوفو نے جمعہ کو ایک بیان میں کہا تھا کہ لیبیا میں بین الاقوامی مداخلت کے بغیر بحران کا حل ممکن نہیں ہے۔ان کا کہنا تھا کہ:'' وہ نہیں سمجھتے کہ مسلح دہشت گرد ملیشیائیں لیبی عوام کے درمیان مصالحت کے لیے شرائط وضع کرسکتی ہیں۔اس لیے تمام لیبی دھڑوں کے درمیان مصالحت کے لیے بین الاقوامی مداخلت ناگزیر ہے''۔