.

شام کی جان مکین کے دورے پر اقوام متحدہ سے شکایت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام نے امریکا کے سابق شکست خوردہ صدارتی امیدوار اور ری پبلکن سینیٹر جان مکین ،فرانس کے سابق وزیرخارجہ برنارڈ کوشنر اور دوسری معروف بین الاقوامی شخصیات کے ویزے کے بغیر اپنی ملکی حدود میں داخلے پر اقوام متحدہ سے شکایت کی ہے اور ان کے فعل کو اپنی علاقائی خود مختاری کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

اقوام متحدہ میں متعیّن شامی سفیر بشارالجعفری نے سیکریٹری جنرل بین کی مون اور پندرہ رکن سلامتی کونسل سے ایک خط میں مطالبہ کیا ہے کہ وہ شامی علاقے میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے والے اپنے شہریوں کے خلاف ضروری اقدامات کریں۔

جان مکین نے مئی 2013ء میں شام کا غیرعلانیہ دورہ کیا تھا۔وہ ترکی کے سرحدی علاقے سے شامی حدود میں داخل ہوئے تھے اور وہاں باغی لیڈروں سے ملاقات کی تھی۔ بشار جعفری نے اپنے خط میں لکھا ہے کہ ری پبلکن سینیٹر نے القاعدہ سےوابستہ النصرۃ محاذ کے لیڈروں سے ملاقات کی تھی حالانکہ سلامتی کونسل نے اس جنگجو گروپ کو دہشت گرد قرار دے رکھا ہے۔

سابق فرانسیسی وزیرخارجہ برنارڈ کوشنر نے گذشتہ سال نومبر میں شام کے شمال میں واقع کرد علاقوں کا دورہ کیا تھا۔امریکا کے ایک سفارت کار ڈیوڈ گلبریتھ نے دسمبر میں شام کا دورہ کیا تھا۔ان کے ساتھ امریکا کے تین سیاسی اور فوجی عہدے دار بھی تھے۔

کویت کے ایک سابق رکن پارلیمان ولید الطباطبائی 2013ء میں شام گئے تھے۔وہ اپنے ساتھ مبینہ طور پر شامی باغیوں کے لیے ہتھیار اور رقوم بھی لے کر گئے تھے۔بشار الجعفری نے 24 دسمبر کو اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کو یہ خط لکھا تھا اور اس میں انھوں نے کہا ہے کہ ''اس طرح کے اقدامات شام کی خود مختاری اور اس سے متعلق سلامتی کونسل کی قراردادوں کی صریح خلاف ورزی ہیں''۔

جان مکین نے شام کی اس شکایت کو مسترد کردیا ہے اور انھوں نے الٹا عالمی برادری کو اسد رجیم کے خاتمے کے لیے اقدامات نہ کرنے پر سخت سست کہا ہے۔انھوں نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ''یہ ایک افسوس ناک لیکن غیر حیران کن سچ ہے کہ اسد رجیم کو دو لاکھ سے زیادہ مردوں ،خواتین اور بچوں کے قتل عام پر کوئی تشویش لاحق نہیں ہے بلکہ الٹا اسے میرے آزادی اور وقار کے لیے لڑنے والوں سے ملنے پر تشویش لاحق ہے''۔

انھوں نے کہا کہ ''حقیقت یہ ہے کہ عالمی برادری نے اس خوف ناک حکومت کی چیرہ دستیوں اور مظالم کے باوجود اس کے خاتمے کے لیے کچھ بھی نہیں کیا ہے۔اس کے مظالم ہمارے اجتماعی ضمیر پر ایک دھبّہ ہیں''۔