.

فرانس، لیبیا کے انتہا پسندوں کو ہدف بنانے پر تیار

لیبیا حکومت کسی غیر ملکی مداخلت کو قبول کرنے سے انکاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانس کی افواج لیبیا کی طرف سے سرحد عبور کر کے آنے کی کوشش کرنے والے انتہا پسندوں کے خلاف کارروائیوں کے لے تیار ہیں۔ تاہم لیبیا کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ پارلیمنٹ کے سپیکر نے کسی بھی مغربی ملک کی طرف سے مداخلت کو مسترد کیا ہے۔

لیبیا میں مسلسل بحرانی صورت حال کی وجہ سے بین الاقوامی سطح پر تشویش پائی جاتی ہے۔ لیبیا دو ہزار گیارہ سے مسلسل بد امنی کی دلدل میں پھنسا ہوا ہے۔ بد امنی اور انتشار کی حد یہ ہے کہ لیبیا میں اس وقت دو متحارب حکومتیں اور دو پارلیمنٹ کام کر رہی ہیں۔

ان میں ایک اسلامی انتہا پسندوں کی حمایت یافتہ حکومت ہے اور دوسری مغربی ممالک کی تسلیم کردہ حکومت ۔ طرابلس میں اسلامی انتہا پسندوں کا راج ہے جبکہ دوسری حکومت کو لیبیا کے مشرقی سرحدی قصبے میں پناہ لینا پڑی ہے۔

اسی دوران اقوام متحدہ کی طرف سے دونوں متحارب حکومتوں کے درمیان مذاکرات کرنے کی کوششیں ابھی تک عملاً نتیجہ خیز ثابت نہیں ہو سکی ہیں۔ ان مذاکرات کے لیے پیر کا دن مقرر کیا گیا تھا۔ لیکن پیر کے روز یہ ممکن نہیں ہو سکے ہیں۔

اقوام متحدہ کے ترجمان سٹیفن دوجارک کا کہنا ہے موجودہ صورت حال کسی بھی طرح مذاکرات کے لیے مفید نہیں ہےترجمان نے کہا '' اقوام متحدہ کی کوشش ہے کہ متحارب حکومتوں کو مذاکرات کے وقت اور جگہ پر راضی کر لے۔

دریں اثناء فرانس کے صدر فرانسو اولاند نے اقوام متحدہ پر زور دیا ہے کہ شمالی افریقہ کے اس ملک میں بڑھتے ہوئے تشدد کی روک تھام کے لیے اقدامات کرے۔ تاہم فرانس کے صدر نے واضح کیا ہے کہ ان کا ملک یکطرفہ طور پر لیبیا میں کارروائی نہیں کرے گا۔

اس کے باوجود فرانس شمالی نائیجر میں لیبیا سے ایک سو کلو میٹر کے فاصلے پر ایک فوجی اڈا قائم کرنے کی تیاری میں ہے۔ افریقی رہنماوں نے پچھلے ماہ مغربی ممالک سے ڈاکار سربراہی کانفرنس میں مطالبہ کیا تھا کہ وہ لیبیا میں مداخلت کریں۔
تاہم لیبیا کی پارلیمنٹ کے سپیکر عقیلا عیسی نے رپورٹرز سے کہا ہے '' میں نے عرب لیگ سے باضابطہ کہا تھا کہ لیبیا کی تمام تر اہم تنصیبات کے تحفظ کے لیے مداخلت کی جائے اور انتہا پسندوں کو پرتشدد کارروائیوں سے روکا جائے۔''

سپیکر نے واضح اور دو ٹوک انداز میں غیرملکی فوجی مداخلت کو مسترد کیا اور کہا اگر ہمی کو ئی ایسی ضرورت ہو گی تو ہم اپنے عرب بھائیوں سے کہیں گے۔

بین الاقوامی برادی سے تسلیم شدہ حکومت کے ترجمان نے کہا '' لیبیا کی حکومت بین الاقوامی برادری کی طرف سے ایسے تعاون کا خیر مقدم کرے گی جو انتہا پسندی کے خلاف ہو گا۔''