.

پاسداران انقلاب کے ہاتھوں بلوچستان سے 30 افراد گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کی طاقت ور فوج پاسداران انقلاب نے ملک کے جنوبی مشرقی شورش زدہ صوبے سیستان بلوچستان میں سرباز کے مقام پر تلاشی کی کارروائیوں میں کم سے کم تیس بلوچ شہریوں کو حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا ہے۔

بلوچ کارکنوں کی جانب سے انٹرنیٹ پر پوسٹ کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ پاسدارن انقلاب نے گذشتہ دو ایام میں سرباز شہر میں گھر گھر تلاشی کی کارروائیوں میں تیس افراد کو حراست میں لیا۔ بلوچ کارکنوں کا کہنا ہے کہ حراست میں لیے گئے تمام افراد عام شہری ہیں۔

تاہم دوسری جانب پاسداران انقلاب کی جانب سے جاری ایک بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ حراست میں لیے گئے تمام افراد سرباز میں سرگرم ایک دہشت گرد بلوچ عسکریت پسند گروپ سے تعلق رکھتے ہیں۔

خبر رساں ایجنسی’’فارس‘‘ کے مطابق بلوچستان میں سرگرم عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائی انٹؒیلی اداروں کے تعاون اور مقامی پولیس کی مدد سے عمل میں لائی گئی۔ بیان میں الزام عاید کیا گیا ہے کہ پکڑے گئے افراد صوبے میں اہم سیاسی اور عسکری شخصیات کے قتل اور بم دھماکوں میں ملوث تھے۔ ان دھماکوں میں پاسداران انقلاب اور نیم سرکاری ملیشیا پاسیج فورسز کے کئی اہلکار بھی مارے گئے تھے۔

خیال رہےکہ حال ہی میں ایران کے صوبہ بلوچستان میں سرگرم تنظیم جیش العدل کی جانب سے جاری ایک بیان میں سراوان اور سرباز میں دو بم دھماکوں کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ ان دھماکوں میں پاسدارن انقلاب کے متعدد فوجی افسر اور سپاہی ہلاک ہوگئے تھے۔

پچھلے ایک ماہ سے پاکستان کی سرحد سے متصل شورش زدہ صوبہ بلوچستان میں ایرانی فورسز کے کارروائیوں میں تیزی دیکھنے میں آئی ہے۔ فوج اور پولیس کے ساتھ جنگجوئوں کی جھڑپیں بھی مسلسل ہو رہی ہیں جس کے نتیجے میں فریقین کو جانی اور مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

حال ہی میں تہران اور اسلام آباد کے درمیان سیکیورٹی تعاون کو مربوط بنانے کے حوالے سے ایک معاہدہ بھی طے پایا تھا جس کے تحت پاکستان اپنی حدود میں ایران کو بلوچ عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائی کی اجازت دی تھی۔ معاہدے کے بعد ایرانی فوج متعدد مرتبہ پاکستانی علاقوں میں داخل ہوکر مبینہ طورپر بلوچستان میں شورش پھیلانے والے عناصر کے خلاف کارروائی کرتی رہی ہے۔