.

بین کی مون نے فلسطین کی ICC میں شمولیت کی تصدیق کر دی

اسرائیلی مظالم کو انٹرنیشنل کریمنل کورٹ میں لانے کی راہ ہموار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے کہا ہے کہ فلسطینی ریاست یکم اپریل کو انٹرنیشنل کریمنل کورٹ کا حصہ بن جائے گی۔ اس کے نتیجے میں فلسطین اسرائیل کو اس کے جنگی جرائم کی بنیاد پر بین الاقوامی عدالت کے کٹہرے میں لا سکے گا۔

فلسطینی اتھارٹی نے انٹرنیشنل کریمنل کورٹ کے روم میں منظور کیے گئے قانون کی توثیق پر مشتمل دستاویزات جمع کرا دیے ہیں۔ اقوام متحدہ کے حوالے سے ایک ویب سائٹ پر منگل اور بدھ کی درمیانی شب ایک بیان سامنے آیا ہے جس میں سیکرٹری جنرل نے کہا ہے کہ فلسطین یکم اپریل دوہزار پندرہ سے اس عالمی ادارے کا رکن بن جائے گا۔

اس فیصلے کے بعد فلسطین کو اسرائیل کی طرف سے مزاحم کا سامنا ہے، امریکا بھی فلسطین کے انٹر نیشنل کریمنل کورٹ کا حصہ بننے کا مخالف ہے۔ امریکا کے مطابق اس سے فلسطین اور اسرائیل کے درمیان امن معاہدے میں رکاوٹ بنے گی۔

آئی سی سی نسل کشی،انسانیت مخالف جرائم اور جنگی جرائم کے الزامات میں مشتبہ افراد کے خلاف مقدمات چلا سکتی ہے۔ یہ عدالت معاہدۂ روم کے تحت یکم جولائی 2002ء کو قائم کی گئی تھی۔ اب تک ایک سو بائیس ممالک اس عدالت کے قیام کے لیے معاہدۂ روم کی توثیق کر چکے ہیں۔ تاہم امریکا اور اسرائیل نے ابھی تک اس معاہدے کی توثیق نہیں کی ہے۔

اسرائیل نے فلسطینیوں کے خلاف اپنی ظالمانہ کارروائیوں کا آغاز 12 جون 2014ء کو کیا تھا جب تین اسرائیلی نوجوان لاپتا ہو گئے تھے۔ ان کی بازیابی کے لیے کریک ڈاؤن کے دوران اسرائیلی سکیورٹی فورسز نے دوہزار سے زیادہ فلسطینیوں کو دریائے اردن کے مغربی کنارے کے علاقوں اور مقبوضہ بیت المقدس سے گرفتار کر لیا تھا۔ اس کے بعد جولائی اور اگست میں اسرائیلی فوج نے غزہ پر تباہ کن بمباری کی تھی، جس کے نتیجے میں قریباً بائیس سو فلسطینی شہید اور ہزاروں زخمی ہو گئے تھے۔

فلسطینیوں کے اعلیٰ مذاکرات کار صائب عریکات نے تصدیق کی ہے کہ عالمی فوجداری عدالت میں اسرائیل کے خلاف غزہ پر مسلط کردہ پچاس روزہ جنگ کے دوران جنگی جرائم کے الزامات میں مقدمہ دائر کیا جائَے اور غرب اردن میں فلسطینیوں کی سرزمین پر یہودی آبادکاروں کے لیے بستیوں کے کے قیام پر ایک الگ مقدمہ قائم کیا جائے گا۔