.

ایران کا عراق میں 40 کلومیٹر اندر اپنی فوج کی موجودگی کا دعوٰی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کی بری فوج کے سربراہ بریگیڈیئر جنرل احمد رضا بوردستان نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی فوج عراق کی سرحد سے چالیس کلو میٹر اندر دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں میں مصروف ہے۔

ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی’’ارنا‘‘ نے بری فوج کے سربراہ کا ایک بیان نقل کیا ہے جس میں انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی بری فوج مغربی عراق کی سرحد عبور کرنے کے بعد کئی کلو میٹر اندر کارروائیاں کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گرد تنظیم دولت اسلامی کی طرف سے خطرہ لاحق ہوا تو فوج مزید عراق کے اندر داخل ہوکر کارروائی کرے گی۔

ایرانی عہدیدار کا کہنا تھا کہ ہماری مسلح افواج دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کے لیے عراق کے اندر کسی بھی جگہ کارروائی کے لیے تیار ہے۔ اس وقت بھی ایران کی زمینی فوج چالیس کلو میٹر عراق کے اندر موجود ہے جہاں دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔

خیال رہے کہ حال ہی میں عراق اورایران کے دو طرفہ تعاون کے ایک دفاعی معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ اس معاہدے کے تحت ایران عراق کی سیکیورٹی فورسز کی تربیت میں بغداد کی نما معاونت کرے گا۔

پچھلے کچھ مہینوں سے تواترکے ساتھ یہ خبریں آتی رہی ہیں کہ ایران نے عراق کی سرحد پر بڑی تعداد میں فوج تعینات کی ہے۔ ایران کے جنگی طیارے بھی عراق کی سرحدوں کے قریب مسلسل پروازیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ نیز تہران نے عراق کے مذہبی مراکز کربلا اور النجف کی سیکیورٹی کے لیے نیم سرکاری ملیشیا پاسیج اور پاسداران انقلاب کے سیکڑوں اہلکار بھی بغداد روانہ کر دیے ہیں۔

ادھر ایران کی ایک دوسری خبر رساں ایجنسی’’فارس‘‘ نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کا ملک داعش کے خلاف جنگ میں عراق کی بھرپور مدد کررہا ہے۔ فارس کی رپورٹ کے مطابق داعشی جنگجوئوں کو عراق کے شہروں سے نکال باہر کرنے میں امریکا کی قیادت میں ہونے والے فوجی حملوں سے زیادہ ایران فوج کا کردار ہے۔