.

سعودی عرب: غیرملکیوں کی ہیلتھ انشورنس کے بغیر اقامہ ناممکن

اکیس جنوری سے سختی شروع کر دی جائے گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی حکومت کے حالیہ فیصلے کے مطابق غیر ملکیوں کو اکیس جنوری سے ہیلتھ انشورنس کے بغیر سعودی عرب میں قیام کے لیے اقامہ جاری کیا جائے گا نہ پہلے سے جاری شدہ کسی اقامہ کی تجدید کی جائے گا۔ یہ بات سعودی عرب کے ڈائریکٹر جنرل پاسپورٹ نے بتائی ہے۔

بتایا گیا ہے کہ یہ مہم محکمہ پاسپورٹ کو کونسل برائے کوآپریٹو پیلتھ انشورنس کی طرف سے سعودی محکمہ پاسپورٹ کو کی گئی درخواست کے بعد شروع کی جا رہی ہے۔ اس مہم کے نتیجے میں کسی غیر ملکی شہری یا اس کے اہل خانہ سمیت کسی کے بھی اقامہ کی اس وقت تک تجدید ہو سکے گی، نہ اقامہ کی مدت میں توسیع ہو گی اور نہ ہی انہیں نئے اقامے جاری ہو سکیں گے، جب تک کہ ان کے ہیلتھ انشورنس سرٹیفیکیٹ نہیں ہوں گے۔

ڈائریکٹر جنرل پاسپورٹ کرنل خالد شیخان کا کہنا ہے کہ اقامہ کے لیے درخواست دینے والوں کے لیے لازم ہو گا کہ وہ اپنا پیلتھ انشورنس سرٹیفیکیٹ ہمراہ پیش کریں۔

ڈائریکٹر جنرل کے مطابق اس سلسلے میں کونسل برائے کوآپریٹو ہیلتھ انشورنس غیر ملکیوں کی انشورنس کے حوالے سے ڈیٹا فراہم کرے گی اور اس کی روشنی میں اقامہ جاری کیا جائے گا یا اس کی تجدید کی جائے گی۔ انہوں نے کہا جن غیر ملکیوں کے ہیلتھ انشورنس سرٹیفیکیٹ نہیں ملیں گے انہیں اقامہ جاری نہیں ہو سکے گا۔

اس سے پہلے ایک بیان میں کونسل برائے کوآپریٹو ہیلتھ انشورنس کی طرف سے کہا گیا تھا جو کفیل حضرات اپنے ملازمین اور ان کے اہل خانہ کی پیلتھ انشورنس کے حوالے سے ادائیگی نہیں کریں گے تو ان سے قانون کے مطابق سختی سے یہ وصولیاں کی جائیں گی۔ حتی کہ پہلے سے موجود واجب الادا رقوم بھی حاصل کی جائیں گی اور جرمانہ بھی وصول کیا جائے گا۔

اس حوالے سے غیر ملکی شہریوں کا خیال ہے کہ ان کے تمام اہل خانہ کی ہیلتھ انشورنس سے متعلق فیصلہ کے بعد کمپنیاں تمام کارکنوں سے پریمیم کے معاملے میں سختی کریں گی۔

واضح رہے سعودی عرب میں دس لاکھ کے قریب غیر ملکیوں کی انشورنس ہے اور ان کی ہیلتھ انشورنس کو مجموعی طور پر انتیس انشورنس کمپنیاں ڈیل کرتی ہیں۔

توقع کی جا رہی ہے کہ دوہزار اٹھارہ تک خلیجی ممالک میں ہیلتھ انشورنس کی مارکیٹ کا حجم انہتر اعشاریہ چار ارب ڈالر ہو جائے گا۔ دوہزار تیرہ میں یہ حجم انتالیس اعشاریہ چار ارب ڈالر تھا۔