.

شام میں کلورین گیس کے استعمال کے مزید شواہد

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں روس کی امریکا،برطانیہ اور فرانس سے جھڑپ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کیمیائی ہتھیاروں کے امتناع کی تنظیم (او پی سی ڈبلیو) نے شام میں گذشتہ سال تین دیہات میں زہریلی کلورین گیس استعمال کرنے کے شواہد فراہم کرنے کی تصدیق کی ہے۔ شامی فوج پر 2014ء میں ملک کے مختلف علاقوں میں کلورین کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کے الزامات عاید کیے گئے تھے۔

او پی سی ڈبلیو کے تحقیقاتی مشن نے اپنی منگل کو جاری کردہ نئی رپورٹ میں بتایا ہے کہ کلورین گیس کے حملوں میں ساڑھے تین سو سے ساڑھے پانچ سو تک افراد متاثر ہوئے تھے اور ان میں تیرہ افراد کی ہلاکت ہوئی تھی۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں منگل کو اس رپورٹ کا جائزہ لیا گیا ہے۔سفارت کاروں کے مطابق کونسل کے اجلاس میں برطانیہ ،فرانس اور امریکا کے نمائندوں کی روسی سفیر سے اس مسئلے پر جھڑپ بھی ہوئی ہے۔ بند کمرے کے اجلاس میں شام کے اتحادی روس کا اصرار تھا کہ او پی سی ڈبلیو کو اس معاملے سے نمٹنا چاہیے اور سلامتی کونسل کا اس سے کوئی سروکار نہیں ہونا چاہیے۔

امریکی سفیر سمنتھا پاور نے کہا کہ ''حالیہ رپورٹ سے شامی حکومت کی جانب سے مہلک کلورین گیس استعمال کرنے کے مزید شواہد سامنے آئے ہیں''۔انھوں نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر لکھا ہے کہ ''رجیم پر یہ واضح کردینا چاہیے کہ اعلان کردہ کیمیائی ہتھیاروں کو تلف کرنا ہی کافی نہیں ہے بلکہ وہ شہریوں پر کیمیائی مواد گرانا بھی بند کردے''۔

رپورٹ میں گذشتہ سال اپریل سے اگست کے دوران تین دیہات تل مینسے، آل تمنح اور کفر زیتا میں کلورین گیس کے حملوں کا کسی فریق کو ذمے دار نہیں ٹھہرایا گیا ہے لیکن سمنتھا پاور نے لکھا ہے کہ ''انتیس شاہدین نے ہیلی کاپٹروں کی جانب سے بم گرانے کی آواز سنی تھی اور انتیس نے کلورین گیس کی بُو سونگھنے کی تصدیق کی ہے۔اس لیے بات واضح ہے۔شام میں صرف بشار رجیم ہی ہیلی کاپٹر استعمال کررہا ہے''۔

شام نے اپنے اعلان کردہ خطرناک ہتھیاروں کے ذخیرے میں کلورین کا ذکر نہیں کیا تھا۔اس زہریلی گیس کو 2013ء میں شام کے خطرناک ہتھیاروں کی تباہی کے لیے اور امریکا اور روس کی ثالثی میں طے پائے معاہدے کے تحت ایک کیمیائی ہتھیار خیال کیا جاسکتا ہے۔اس کو تجارتی اور گھریلو مقاصد کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

او پی سی ڈبلیو کی یہ شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال سے متعلق تیسری رپورٹ ہے اور اس میں کلورین گیس کے شامی شہریوں پر تین مواقع پر استعمال سے متعلق مزید تفصیل بیان کی گئی ہے۔

شامی صدر بشارالاسد کی حکومت اور باغی جنگجو ماضی میں ایک دوسرے پر کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے کے الزامات عاید کرچکے ہیں۔اگست 2013ء میں دمشق کے نواحی علاقے میں خطرناک گیس سیرن کا حملہ کیا گیا تھا۔عالمی برادری نے بشارالاسد کی حکومت پر اس حملے کا الزام عاید کیا تھا اور اس کے بعد ہی شامی صدر نے اپنے کیمیائی ہتھیاروں کو تلف کرنے سے اتفاق کیا تھا۔

اس کے بعد اوپی سی ڈبلیو اور اقوام متحدہ کے ماہرین کی نگرانی میں شام سے ایک ہزار تین سو میٹرک ٹن کیمیائی ہتھیار بیرون ملک منتقل کیے گئے تھے۔ان میں سے زیادہ تر کو امریکا کے بحری جہاز ایم وی کیپ رے کے ذریعے تباہ کیا جاچکا ہے۔

واضح رہے کہ کلورین سیرین گیس کے مقابلے میں کئی ہزار گنا کم مہلک ہوتی ہے لیکن کیمیائی ہتھیاروں سے متعلق کنونشن کے تحت اس کا استعمال بھی غیر قانونی ہے۔شام نے بھی اس کنونشن پر دستخط کررکھے ہیں۔شامی فوج کی جانب سے اپنے ہی شہریوں پر کلورین کے استعمال کا اقدام امریکا اور روس کے درمیان طے پائے معاہدے کی شرائط کی بھی خلاف ورزی ہے۔