.

فرانسیسی اخبار کے دفتر پر حملہ ،12 افراد ہلاک

اخبار نے ماضی میں متعدد مرتبہ توہین آمیز خاکے شائع کیے تھے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانس کے دارالحکومت پیرس میں مسلم رہ نماؤں کا مضحکہ اڑانے اور سنہ 2006ء اور 2011ء میں توہین آمیز خاکے شائع کرنے والے اخبار چارلی ہیبڈو کے دفاتر میں گھس کر نامعلوم مسلح حملہ آوروں نے فائرنگ کی ہے جس کے نتیجے میں بارہ افراد ہلاک اور چار شدید زخمی ہوگئے ہیں۔

پیرس پولیس کے مواصلاتی شعبے کے سربراہ ژاوئیر کاسٹینگ نے بدھ کو فائرنگ کے واقعے میں ان ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔فرانس کے ایک سرکاری ٹیلی ویژن کی ویب سائٹ پر پوسٹ کی گئی ویڈیو میں سیاہ لباس میں ملبوس دو نقاب پوش مسلح افراد کو بھاگتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔وہ ایک شاہراہ پر فائرنگ کے بعد اللہ اکبر کا نعرہ بلند کرتے ہوئے کار میں سوار کر جا رہے ہیں۔

فرانس کے ایک ٹیلی ویژن چینل آئی ٹیلی نے ایک عینی شاہد کے حوالے سے اس واقعے کی اطلاع دی ہے۔اس شخص نے قریب واقع عمارت سے یہ تمام واقعہ رونما ہوتے ہوئے دیکھا ہے۔

عینی شاہد بینو برینجر نے ٹی وی اسٹیشن کو بتایا ہے کہ ''کوئی آدھا گھنٹا قبل دو نقاب پوش عمارت میں داخل ہوئے تھے۔ان کے ہاتھوں میں کلاشنکوف رائفلیں تھیں۔اس کے چند منٹ کے بعد ہم نے اندھا دھند فائرنگ کی آوازیں سنیں۔پھر وہ مسلح افراد عمارت سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے ہیں''۔

ایس بی پی پولیس یونین کے ایک عہدے دار لک پوائیننٹ نے کہا ہے کہ حملہ آور دو گاڑیوں میں فرار ہوئے ہیں۔وہ پہلے ایک کار میں بیٹھے تھے اور اس کے بعد ایک چوری شدہ گاڑی میں سوار ہوکر پیرس کے مشرقی علاقے کی جانب روانہ ہوگئے۔

اخبار کے کارٹونسٹ رینود لوزئیر نے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے فائرنگ کے واقعے میں ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے لیکن یہ نہیں بتایا کہ کل کتنے افراد مارے گئے ہیں۔ان مسلح جنگجوؤں کی فائرنگ سے دو پولیس افسر بھی مارے گئے ہیں۔

اے ایف پی نے عدالتی ذرائع کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ مرنے والے افراد میں فرانس کے بعض معروف کارٹونسٹ بھی شامل ہیں۔اخبار کے ایڈیٹر انچیف اسٹیفن شاربونئیر المعروف شارب اور کارٹونسٹ چابو ،ٹیگنوس اور وولنسکی حملے میں ہلاک ہوگئے ہیں۔

فرانسیسی صدر فرانسو اولاند نے واقعے کو دہشت گردی کا حملہ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ حالیہ ہفتوں کے دوران دہشت گردی کے متعدد حملوں کو ناکام بنایا گیا ہے۔ صدر اولاند واقعے کی اطلاع ملتے ہی جائے وقوعہ پر پہنچے تھے۔

انھوں نے کہا کہ اس واقعے کے ذمے داروں کا پیچھا کیا جائے گا اور انھیں گرفتار کر کے انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ ان کی حکومت نے فرانس میں سکیورٹی کی سطح کو بلند کردیا ہے اور کابینہ کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا ہے۔

برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون ،امریکی صدر براک اوباما اور جرمن چانسلر اینجیلا مرکل نے پیرس میں اخبار کے دفاتر پر حملے کی مذمت کی ہے۔انھوں نے اپنے الگ الگ بیانات میں کہا ہے کہ وہ آزادی اظہار اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرانسیسی عوام کے ساتھ ہیں۔

واضح رہے کہ اس فرانسیسی ہفت روزہ اخبار نے 2006ء ،2011ء اور 2013ء میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین پر مبنی خاکے اور کارٹون شائع کیے تھے جس پر دنیا بھر کے مسلمانوں نے شدید ردعمل کا اظہار کیا تھا۔یہ طنزیہ اخبار ماضی میں متعدد مواقع پر آزادی اظہار کے نام پر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کا مرتکب ہوچکا ہے۔اس کے دفاتر پر سنہ 2011ء میں ایسی ہی ناپاک جسارت کے بعد فائربم حملہ کیا گیا تھا۔اخبار کی اشاعتوں میں اکثر مسلم رہ نماؤں کا مضحکہ اڑایا جاتا ہے۔